تاریخ شائع کریں2024 11 May گھنٹہ 09:09
خبر کا کوڈ : 634870

غزہ میں  ایک صیہونی جنگی قیدی خود کشی کرنا چاہتا تھا جس کو بچا لیا گیا ہے

حماس نے بتایا ہے کہ یہ اسرائيلی جنگی قیدی خراب جسمانی اور ذہنی حالت کی بنا پر خود کشی کرنا چاہتا تھا لیکن بروقت پتہ چل جانے پر اس کو خودکشی سے  بچالیا گیا۔
غزہ میں  ایک صیہونی جنگی قیدی خود کشی کرنا چاہتا تھا جس کو بچا لیا گیا ہے
 حماس نے غزہ میں ایک اسرائيلی جنگی قیدی کو خود کشی سے بچالینے کی خبردی ہے

حماس نے ایک بیان جاری کرکے بتایا ہے کہ غزہ میں  ایک صیہونی جنگی قیدی خود کشی کرنا چاہتا تھا جس کو بچا لیا گیا ہے۔

حماس نے بتایا ہے کہ یہ اسرائيلی جنگی قیدی خراب جسمانی اور ذہنی حالت کی بنا پر خود کشی کرنا چاہتا تھا لیکن بروقت پتہ چل جانے پر اس کو خودکشی سے  بچالیا گیا۔

 حماس نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی وزير اعظم بن یامن نتن یاہو جنگی قیدیوں کے تبادلے میں بنیادی رکاوٹ ہیں اور غزہ میں صیہونی جنگی قیدیوں کی جسمانی اور ذہنی بدحالی کی ذمہ داری انہیں پرعائد ہوتی ہے۔

اس سے پہلے القسام بریگیڈ نے گزشتہ منگل کو غزہ پر صیہونی فوج کی بمباری میں ایک لیڈی صیہونی جنگی قیدی کی ہلاکت کا خبر دی تھی۔  

القسام بریگیڈ نے بتایا تھا کہ اس بمباری میں ایک اور اسرائیلی جنگی قیدی سخت زخمی ہوگیا تھا اورچونکہ صیہونی فوجیوں نے غزہ کے اسپتال تباہ کردیئے ہیں  اس لئے خون بہہ جانے کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔  

  یاد رہے کہ حماس کے پولٹ بیورو کے سربراہ اسماعیل ہینہ نے گزشتہ پیر کی رات قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور مصر کے محکمہ  انٹیلیجنس کے سربراہ سید عباس کامل کو ٹیلیفون کرکے، غزہ میں جنگ بندی کے لئے ان کی تجویز کی موافقت کی اطلاع دی تھی ۔

المیادین ٹی وی نے بھی فلسطین کے ایک استقامتی رہنما کے حوالے  سے رپورٹ دی تھی کہ جنگ بندی کے لئے ثالثی کرنے والوں اور حماس کے درمیان ایک نئے اور محکم فارمولے پر اتفاق ہوگیا ہے اور یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔

 دوسری جانب  صیہونی حکام نے ابھی تک دوحہ اور قاہرہ کی پیش کردہ تجویز کی موافقت نہیں کی  ہے۔
https://taghribnews.com/vdchqkn-v23nx6d.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس
سکیورٹی کوڈ