مقبوضہ کشمیر میں ہندستانی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی جاری
کشمیر مخالف ہندستانی فوج کے خلاف بعد نماز عید احتجاجی مظاہرے
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۱ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۹:۰۴
موضوع نمبر: 282080
 
رپورٹ کے مطابق ان میں سے3لڑکوں سمیت7 نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیاگیا۔ ان شہادتوں کی وجہ سے 4 خواتین بیوہ اور 2 بچے یتیم ہوئے۔ بھارتی اہلکاروں کی طرف سے گزشتہ ماہ پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں 261افراد زخمی ہوئے جبکہ اس عرصے کے دوران حریت رہنماؤں اور کارکنوں سمیت115 شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے گزشتہ ماہ 27 گھروں کو نقصان پہنچایا اور محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران  6خواتین کی بے حرمتی کی۔


دریں اثنا بھارتی پولیس نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو پارٹی رہنما بشیر احمد کشمیری کے ہمراہ گرفتار کرنے کے بعد سینٹرل جیل منتقل کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ایک تیز رفتار گاڑی نے سری نگر جموں شاہراہ پر بانیہال کے نزیک ایک مسافر گاڑی کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں گاڑی کے ڈرائیو سمیت 2 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے۔


کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سری نگر سے ادھم پور جانے والی فوجی گاڑی نے چمل واس کے نزدیک مسافر وین کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں ڈرائیور منجیت سنگھ اور سری نگر کے رہائشی 38 سالہ نثار احمد کی جانیں ضائع ہو گئیں۔ زخمیوں کی شناخت محمد طارق، فیاض احمد،دلشادہ بیگم، ارشاد احمد نجاراور مختار احمد کے طور پر ہوئی ہے۔


علاوہ ازیں جموں خطے کے ضلع ریاسی میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی سڑک سے پھسل کرکھائی میں گرنے کے باعث9 اہلکار زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوجیوں نے ضلع کپواڑہ میں 2نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد ایک کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا جبکہ ایک قابض فوجیوں کی زیر حراست لاپتہ ہو چکا ہے۔


مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کشمیریوں پر زور دیا ہے کہ وہ عیدالاضحی انتہائی سادگی کے ساتھ منائیں اور آرٹیکل370 اور 35 اے کی منسوخی، بھارتی تحقیقاتی ادارے کی طرف سے آزادی پسند رہنماؤں کی بلاجواز گرفتاری اور دیگر کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کے خلاف بعد نماز عید احتجاجی مظاہرے کریں۔
Share/Save/Bookmark