آل سعود کی قوت اور طاقت منوں مٹی تلے مل چکی
پینتیس سال سے امریکا نے ایران کا اقتصادی محاصرہ کر رکھا ہے، لیکن ایرانیوں کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا
ذی الحج کا مہینہ بڑا عظیم ہے، اس مقدس ماہ میں حج بیت اللہ ہے، اس سے پہلے روز عرفہ ہے، اسی مہینے میں واقعہ غدیر ہے، بہت بابرکت ماہ ہے یہ، اس مہینے کی حرمت کے اعتبار سے ایک دوسرے کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ایک دوسرے پر مزید بڑھ جاتی ہے
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۰ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۳۴
موضوع نمبر: 281925
 
عالم اسلام کا چیمپئین کہلوانے والے سعودی عرب کو مقدس مہینے ذی الحج کا بھی ادب و احترام نہیں، یمن پر انسان سوز مظالم جاری ہیں، مولانا زاہد حسین
 
سعودی افواج دنیا بھر میں زلیل و رسوا ہورہی ہیں، آل سعود کی قوت اور طاقت منوں مٹی تلے مل چکی، تقریب نیوز ایجنسی سے انٹرویو
 
پینتیس سال سے امریکا نے ایران کا اقتصادی محاصرہ کر رکھا ہے، لیکن ایرانیوں کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا، شام میں امریکا زلیل و خوار ہورہا ہے، رہنما شیعہ علما کونسل  
 
کراچی میں تقریب نیوز ایجنسی کے نمائندے سے خصوصی بات چیت میں شیعہ علما کونسل کے رہنما مولانا زاہد حسین نے کہا کہ "ذی الحج کا مہینہ بڑا عظیم ہے، اس مقدس ماہ میں حج بیت اللہ ہے، اس سے پہلے روز عرفہ ہے، اسی مہینے میں واقعہ غدیر ہے، بہت بابرکت ماہ ہے یہ، اس مہینے کی حرمت کے اعتبار سے ایک دوسرے کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ایک دوسرے پر مزید بڑھ جاتی ہے، آپ جانتے ہیں کہ دور جاہلیت میں لوگ زی الحجۃ کو کشت و خون کے لئے حرام مہینہ کہتے تھے اور اس بات کا خیال رکھتے کہ اس مقدس ماہ میں کسی کو نقصان نہ پہنچائیں، صرف اس دور میں نہیں، بلکہ ہر دور میں اس کی احتیاط کرنا واجب ہے، لازم ہے، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے چند سال سے چاہے زی الحجۃ کا مہینہ ہو یا محرم ہو، یا ذیعقدہ کا مہینہ ہو، جو کوئی بھی مہینہ ہو، یمن کی سرزمین پر مسلسل ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے، بربریت کا بازار گرم ہے، سوعی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں نے مقدس مہنیوں کا احترام بھی ختم کردیا ہے، اور اپنی طاقت کے نشے میں اندھا ہوگیا ہے۔"
 
سعودی عرب یمن میں خود پھنس گیا ہے، اس سوال کے جواب میں مولانا زاہد حسین نے کہا کہ "بالکل یمن پر سعودی جارحیت کا اب الٹا نقصان خود ریاض کو ہو رہا ہے،  اس کا گھمنڈ تھا کہ چند ہفتوں کے اندر ہم صنعا کو فتح کرلیں گے، لیکن آج دنیا دیکھ رہی کہ یمن کے مظلومین کو بغیر گولہ بارود کے بغیر اسلحہ کے ظالموں سے برسرپیکار ہوئے چار پانچ سال سے زیادہ ہوگئے ہیں، سعودی افواج سے نبرد آزما ہیں، اور ان کا حوصلہ اور استقامت آج بھی اپنی جگہ اسی قوت سے قائم ہے، جو پہلے روز تھا، البتہ سعودی افواج دنیا بھر میں زلیل و رسوا ہورہی ہیں، ان کی جو قوت اور طاقت تھی، جس کا اظہار اب تک آل سعود کرتے رہے ہیں، وہ سب منوں مٹی تلے مل چکی ہے۔"
 
عراقی حکام کے دورہ سعودی عرب اور یمن کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ "عراق کے وزیراعظم اور ممتاز سیاسی رہنما مقتدیٰ صدر سعودی عرب گئے تھے، بلکہ انھیں وہاں بلایا گیا تھا، وہاں باتیں تو اور بھی امور پر ہوئی ہوں گی، لیکن پس پردہ ان دونوں شخصیات کو ریاض کی دعوت کا مقصد یہ تھا کہ اس سلسلے میں ایران کے ساتھ روابط بحال کئے جائیں، ایران کے ذریعے یمن کو یہ پیغام بھجوایا جائے کہ وہ ان اصولوں پر آمادہ ہوجائیں جو انھوں نے ازخود وضع کئے ہیں، یعنی ایک نہتی قوم، ایک ایسی قوم جس کا عشق و محبت صرف اور صرف اہل بیت ع اور اللہ کے ساتھ ہے، ان کے لئے کوئی نمونہ یا آئیڈیل ہے تو وہ حضرت امام حسین ع کی زات مبارک ہے، ان کے اصحاب ہیں، جن کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے صبر کرتے ہوئے، یمن کے عوام ظلم اور استبدال کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اور آج تک ڈٹے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں آج تک وہ قائم بھی ہیں، اور آل سعود کو رسوا کررہے ہیں، یمن میں سعودی عرب کی طرف سے اب تک ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے، جو اپنے آپ کو عالم اسلام کا نمائندہ کہتا ہے، خود کو اسلامی دنیا کا رہبر کہلواتا ہے، ان کی یہ کارستانیاں ہیں، وہ تمام تر کوششوں اور دنیا کی اہم طاقتوں کو ساتھ ملانے کے باوجود یمن میں مستقل ہلاک ہورہے ہیں، اپنی ہی مسلط کردہ جنگ ہار رہے ہیں، اور اسی ہار کی جھنیپ مٹانے کے لئے ایران کے راستے عزت کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔"
 
سعودی عرب کی شیعہ آبادی والے علاقوں میں طلم و ستم کے حوالے سے مولانا زاہد حسین نے کہا کہ " یہ سلسلہ ابھی چند ماہ میں پہلے ہی مکہ مکرمہ میں شروع ہوا ہے، مکہ میں جہاں مومنین کی ایک کثیر تعداد برسوں سے پرامن زندگی گزار رہی تھی، لیکن جب سے آل سعود مثل یہود کو یہ خبر ملی ہے کہ امام زمانہ ع کا ظہور مکہ کی سرزمین سے ہی ہوگا، امام ع  کے چاہنے والے دنیا جہاں سے ان کی صدا پر لبیک کہیں گے، امام ع کے چاہنے والے دنیا بھر سے امام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یہاں جو لوگ بسے ہوئے ہیں، امام ع کے لئے وہ معاون ہوں گے، تو اس بات کو سننے کے بعد سعودی عرب نے اپنے شیطانی عزائم کو عملی جامع پہناتے ہوئے اطراف کی آبادی کو خالی کردیا ہے، یہ ظلم و بربریت کی انتہا ہے، اب تک سیکڑوں کی تعداد میں مومنین کو شہید کیا جاچکا ہے، جو لوگ جرات  اور ہمت کے ساتھ اپنے گھرانے اور مسجد و جنت البقیع قبرستان کی حمایت میں تھے، ان تمام کو شہید کردیا گیا، اس علاقے کے لوگوں پر اس حد تک ظلم کیا گیا کہ وہ وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے، اور اس سب کارروائی کے لئے عذر یہ دیا گیا کہ یہاں ایک جدید پارک بنایا جائے گا، جہاں دنیا بھر سے لوگ سیاحت کو آئیں گے، یہ سب سعودیوں کا اپنا دل بہلانے کے حیلے بہانے ہیں۔"
 
مولانا زاہد حسین نے مزید کہا کہ "اصل چیز یہ ہے کہ جو امام ع ابھی پردہ غیب میں ہیں، ان سے یہ خوف کھائے ہوئے ہیں، یہ تمام چیزیں اسی لئے ہیں، لیکن جب خدا اپنی آخری حجت کو دنیا پر آشکار کرے گا، ان کی نصرت کا بھی اہتمام کرے گا، تو دنیا جہاں کی تمام طاقتیں اور ان کی تمام اسلحہ بے کار ہوجائے گا، ان کے اپنے جہادی اس اسلحہ کو چلا نہیں سکیں گے، بلکہ امام کی نصرت کے لئے آنے والے سعودی ساختہ اسلحہ استعمال کریں گے، اور سعودی فوج سے مقابلہ کریں گے۔"
 
امریکا کی دھمکی اور پاکستان کی موجودہ صورتحال کے حوالےسے انھوں نے کہا کہ" دنیا اچھی طرح آگاہ ہے کہ جس پاکستان نے ظلم و بربرییت اور دشمنان اسلام کے خلاف دہشت گردوں سے لڑنے میں ہمسایہ ملک کے مسلمانوں کی حمایت کی اس سلسلے میں ہزاروں پاکستانی مارے گئے، یہ تمام قربانیاں اور وہاں سے انخلا کرنے والے لوگوں کو برابری اور اخوت کی بنیاد پر پاکستان لے کر آئے، جس کا خمیازہ ہم دہشت گردی، اسلحہ، منشیات کی صورت میں بھگت رہے ہیں، یہ تمام چیزیں ہمیں اس لڑائی کے بدلے میں تحفے میں ملی ہیں، اس کے بدلے میں پاکستان کی کوششوں اور قابلیت کو مدنظر رکھنے کے بجائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صاف کہہ دیا کہ پاکستان افغانستان میں مداخلت کر رہا ہے، انھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان دہشت گردوں کو پال رہا ہے، ہم انھیں بتانا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد پاکستانی نہیں بلکہ امریکی ہیں، جنھوں نے عراق، شام، افغانستان، پاکستان، فلسطین، مصر، لیبیا، اور اب قطر کے لئے محاز کھول رکھا ہے۔"
 
انھوں نے مزید کہا کہ "امریکا نے بالکل صاف اور کھلے الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر کسی بھی وقت وہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اندر کوئی فوجی کارروائی کرنا چاہے تو پاکستان کی حکومت کو کوئی حق نہیں کہ وہ اسے روکے، لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں تاریخ انسانی میں اگر کسی نے امریکا یا ظلم اور استکبار کے خلاف قیام کیا ہے، دشمنان اسلام یا دشمنان اہل بیت ع کے خلاف کوئی قوم کھڑی ہوئی ہے، جو دیدہ دلیری اور شجاعت کے ساتھ ہر قسم کی مصلحت پسندی کو مدنظر رکھے بغیر کھڑے ہیں، تو وہ شیعیان ایران ہیں، شیعیان عراق ہیں، شیعیان لبنان ہیں، شیعیان شام ہیں، پاکستان کی حفاظت کے لئے دشمن کے مقابلے پر شیعہ بیدار اور چوکس ہیں، وقت آنے پر اس ملک کے شیعیان حیدر کرار مملکت خداداد پاکستان کی بھرپور حفاظت کریں گے، کیونکہ جو قوم پکستان بنانا جانتی ہے وہ اسے دشمن سے بچانا بھی جانتی ہے۔"
مختلف اسلامی ملکوں کو امریکی دھمکیوں کا تمسخر اڑاتے ہوئے مولانا زاہد حسین نے کہا کہ "امریکا کی کیسے ہمت ہوئی پاکستان کو دھمکانے کی، امریکا شمالی کوریا کو جواب نہیں دے پارہا، گزشتہ پینتیس سال سے اس نے ایران کا اقتصادی محاصرہ کر رکھا ہے، لیکن ایرانیوں کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا، شام میں زلیل و خوار ہورہا ہے، وہ پاکستان کو دھمکا رہا ہے، وہ بھی اس اسلامی ملک کو جو ایٹمی قوت ہے،  جس کی قوت کو دنیا جہاں تسلیم کرچکے، آپ اسے کیسے ڈرا سکتے ہیں، اگر آپ اس کے مقابلے پر آنا چاہتے ہیں، تو آپ کو منہ کی کھانا پڑے گی، امریکا پاکستان کو عراق، افغانستان یا شام نہ سمجھے، یہ لبنان نہیں، ان سب ملکوں میں امریکا شکست کھا چکا ہے، پاکستان میں اندر بے شک دہشت گردی ہوتی رہے، اور اس کی باہر سے حمایت ہوتی رہے، تب بھی یہاں کی شجاع اور باوفا افواج کے اندر یہاں کے عوام کے اندر اس قدر غیرت ہے کہ دشمن کی آنکھیں نکال سکتے ہیں۔"
Share/Save/Bookmark