ہمیں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برادرانہ کرنے پڑیں گے
افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے امریکہ کی کوئی نئی پالیسی تو نہیں ہے
برما ہو، شام، لیبیا ہو یا کشمیر، یا کوئی اور ملک، اسلام کے ہی لوگ مارے جا رہے ہیں، مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، پھر بھی پاکستان اور عرب دنیا کے چند ممالک بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں گے۔؟
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۹ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۵۵
موضوع نمبر: 283058
 
معروف کالم نگار، محسنانانِ پاکستان فاونڈیشن اور تحریک جوانان کے صدر عبداللہ گل نے کہا ہے کہ افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے امریکہ کی کوئی نئی پالیسی تو نہیں ہے، یہ تو وہی پالیسی ہے جو بش اتنظامیہ نے ترتیب دی تھی۔

ایک نجی ویب سائیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پالیسی بش اور باراک اوباما کی پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔ اب یہ وہی پرانی پالیسی آنا کیا معنی رکھتا ہے، یہ پالیسی ایک ہارے ہوئے شخص کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی امریکی پالیسیوں اور دھمکیوں پر حکومت پاکستان کا موقف درست ہے، برما ہو، شام، لیبیا ہو یا کشمیر، یا کوئی اور ملک، اسلام کے ہی لوگ مارے جا رہے ہیں، مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، پھر بھی پاکستان اور عرب دنیا کے چند ممالک بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں گے۔؟

عبداللہ گل نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے کہ او آئی سی کوئی کردار ادا کرے، لیکن افسوس کہ او آئی سی تو کسی سرد خانے سے بھی نیچے کسی جگہ پر چلی گئی ہے، نہ اس نے شام کے معاملے پر کوئی کردار ادا کیا، نہ کشمیر پر، نہ افغانستان کے مسئلے پر اس تنظیم نے اپنا کوئی کردار ادا کیا ہے۔ مسلمان اور انسان مارے جا رہے ہیں، انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے، اب اقوام متحدہ بھی تقریباً ختم ہوچکی ہے، اب ابھرتی ہوئی طاقت شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن ہے، جن کے پاس طاقت و وسائل بھی ہیں، جن کے پاس خواہش بھی ہے، اب ان پر اعتبار بڑھ رہا ہے۔ ماضی کے اندر بھی لیگ آف دی نیشن بھی ختم ہوئی تھی۔ دیکھیں اسرائیل تو ان کا باپ ہے، ان کو معلوم ہے کہ اسرائیل کے اوپر جب کوئی مسئلہ آئے تو سب اکٹھے ہو جائیں، اب اگر مسلمانوں کو نظر نہیں آ رہا کہ کیا کریں، پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ داعش ہزاروں کلومیٹر دور پر تو حملہ کرتی ہے لیکن چند کلومیٹر پر اسرائیل ہے، اس پر حملہ نہیں کرتی۔ اس پر مجھے سے بہتر آپ جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ جو کل کے دوست تھے، وہ آج دشمن بنتے دکھائی دے رہے ہیں، جو دشمن تھے ان کے ساتھ دوستی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان جو گیپ تھا، وہ چین کی وجہ سے کم ہوا ہے اور روابط کو تقویت ملی۔ اب ہمیں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بہت بہتر بلکہ برادرانہ کرنے پڑیں گے، اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو ہمارے لئے آسانیاں نہیں بلکہ ہماری مشکلات میں اضافہ ہوگا، ایران وہ ملک ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا، ہمیں ان کے ساتھ کسی معاملے پر اختلاف ہے بھی تو اسے بیٹھ کر حل کرنا چاہیئے۔ بطور سلطنت نہ اختلاف ہونے چاہیئے اور نہ تھے۔ میں دیکھ رکھ رہا ہوں کہ ہمارے ایران کے ساتھ جلد روابط شروع ہو جائیں گے۔ عالمی سطح پر سفارتکاری بہت کمزور ہے، شکر ہے کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، اب ایک وزیر خارجہ آگئے ہیں، گو کہ ابھی تک ان کی صلاحیتوں کو خاص پذیرائی نہیں ملی، لیکن اب حکومت پاکستان، عوام پاکستان اور افواج پاکستان کی پالیسی ایک ہی پیج پر آرہی ہے، امریکہ کی طاقت ٹوٹ رہی ہے، افغانستان میں شکست فاش یہ عندیہ دے رہی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارا دفتر خارجہ فعال کردار ادا کرے۔
Share/Save/Bookmark