تاریخ شائع کریں2024 16 March گھنٹہ 15:11
خبر کا کوڈ : 628491

امریکہ، برطانیہ، صیہونی رجیم اور ان کے کاسہ لیسوں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی

یمن اپنے حق کے لئے لڑ سکتا ہے اور صرف طاقت کی زبان سمجھنے والی بین الاقوامی برادری کے ساتھ برابری کی سطح پر تعامل کے لئے آمادہ ہے۔
امریکہ، برطانیہ، صیہونی رجیم اور ان کے کاسہ لیسوں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی
یمنی وزیر دفاع نے کہا کہ یمن اپنے حق کے لیے لڑ سکتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعامل کے لئے آمادہ ہے، جو صرف طاقتوروں کا احترام کرنا جانتی ہے۔

یمن کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطفی نے یمنی فوج کی "یوم موعود" مشق کے دوران اس بات پر زور دیا کہ یمن اپنے حق کے لئے لڑ سکتا ہے اور صرف طاقت کی زبان سمجھنے والی بین الاقوامی برادری کے ساتھ برابری کی سطح پر تعامل کے لئے آمادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ انصاف کا بول بالا ہو اور جارحیت پسندوں اور غاصبوں خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کو قوموں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور ان کی عزت وآزادی کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا اور اگر وہ اب بھی اپنے نوآبادیاتی دور کے تسلط پسندانہ روئے پر اصرار کرتے ہیں تو پھر انہیں طاقت کی زبان میں سمجھانا ہوگا کہ وہ دوسروں کا احترام کرنا سیکھیں۔

العاطفی نے مزید کہا کہ "فتح موعود اور جہاد مقدس" کی اس جنگ میں ہم پوری طاقت کے ساتھ تصادم کے نئے اصول وضع کر رہے ہیں، جس کی امریکہ، برطانیہ، صیہونی رجیم اور ان کے کاسہ لیسوں کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ 

یہ جنگ طوفان الاقصیٰ کی حمایت میں جاری رہے گی اور یقینا فتح حاصل ہوگی۔

یہ جنگ نئے عالمی نظام اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کا باعث بنے گی۔ ایک ایسی جیو اسٹرٹیجک دنیا کہ جہاں مغربی استعماریت اور امریکی سامراجیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یمنی قوم جنگ نہیں چاہتی اور نہ ہی وہ جارح ہے بلکہ غزہ میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم نے اس قوم سمیت دنیا بھر کی تمام آزاد اقوام کو فلسطینی عوام اور مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
https://taghribnews.com/vdcjhoemvuqe8xz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس
سکیورٹی کوڈ