تاریخ شائع کریں2020 23 November گھنٹہ 21:03
خبر کا کوڈ : 483149

گلگت حلقہ دو کے انتخابی نتائج کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا

گلگت میں جی بی ٹو کے نتائج کے ممکنہ اعلان کے خلاف پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس سے جھڑپ ہونے کے بعد سرکاری گاڑیاں واملاک نذر آتش کردیں
گلگت حلقہ دو کے انتخابی نتائج کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا
گلگت میں جی بی ٹو کے نتائج کے ممکنہ اعلان کے خلاف پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس سے جھڑپ ہونے کے بعد سرکاری گاڑیاں واملاک نذر آتش کردیں۔

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں سب سے دلچسپ مقابلہ جی بی 2 میں ہوا جہاں پی ٹی آئی کے امیدوار فتح اللہ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل احمد سے صرف 2 ووٹوں کے فرق سے انتخاب جیتا تاہم پی پی پی نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاج کے بعد جی بی ٹو میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی گئی لیکن اس میں بھی تحریک انصاف کے امیدوار کی ہی جیت ہوئی۔ ریٹرننگ افسر کی جانب سے جاری کردہ نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار فتح اللہ خان اس بار 96 ووٹوں سے کامیاب قرار پائے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ گلگت بلتستان الیکشن پر امن ہوئے رزلٹ کی تیاری بھی شفاف تھی، فافن رپورٹ
جی بی ٹو کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار فتح اللہ خان کو 6 ہزار880 ووٹ ملے اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 6 ہزار 764 ووٹ لے کر کر دوسرے نمبر پر رہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کیا، اس دوران مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی جس میں شدت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے، مظاہرین نے سرکاری گاڑیاں و املاک نذر آتش کردیں۔

بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی امیدوار کو جتوانے کیلئے الیکشن کمیشن کا ریکارڈ تک غائب کر دیا گیا، چیف الیکشن کمشنر نے فرانزک کروانے سے قبل حلقہ دو کا رزلٹ دے کر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے،  یہ کیسے ممکن ہے کہ ووٹ پیپلز پارٹی کے زیادہ ہوں اور زیادہ  نشستیں پی ٹی آئی کو مل جائیں۔

مصطفیٰ نواز کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کا الیکشن چوری کرنے کے بعد اب تشدد پر اتر آئی ہے،  لوگ اپنا ووٹ چوری ہونے کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں تو ان پر شیلنگ کی جا رہی ہے، پرامن مظاہرین پر تشدد کروا کر وفاقی حکومت حالات خراب کرنا چاہتی ہے، لوگ اس فاشسٹ حکومت کو اب مزید برداشت نہیں کریں گے، گلگت بلتستان میں حالات خراب ہوئے تو اس کے ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز اور وفاقی حکومت ہوں گے۔

واضح رہے گلگلت بلتستان انتخابات میں تحریک انصاف کے 10 امیدوار کامیاب ہوئے اور 6 آزاد امیدواروں کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد یہ تعداد 16 ہوگئی ہے جب کہ انہیں ایم ڈبلیو ایم کی ایک سیٹ کی حمایت بھی حاصل ہے ، یوں پی ٹی آئی واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔
https://taghribnews.com/vdci5pa53t1avz2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس
سکیورٹی کوڈ