تاریخ شائع کریں2026 18 February گھنٹہ 12:20
خبر کا کوڈ : 710168

سانحہ ہزارہ ٹاون، کئی برس گزرنے کے باوجود زخم تازہ

اس سانحے میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے، جن میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مگر اصل نقصان اعداد میں نہیں ناپا جا سکتا، کیونکہ اس دن صرف انسان نہیں گئے تھے، امیدیں، خواب اور کئی خاندانوں کی پوری دنیا مٹ گئی تھی۔
سانحہ ہزارہ ٹاون، کئی برس گزرنے کے باوجود زخم تازہ
تحریر: سید عدیل عباس
بشکریہ: اسلام ٹائمز

صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے مملکت پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا، بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے کہ جس کی سرزمین میں معدنیات کی کمی نہیں، معدنیات کے عظیم ذخائر سے مالا مال یہ صوبہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا ہے۔ خصوصاً بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شیعہ نسل کشی کا سلسلہ شروع کیا گیا، یہ سلسلہ کئی شیعہ مسلمانوں کے گھر ویران کرکے قبرستان آباد کرچکا ہے۔ شہر کوئٹہ میں واقع بہشت زینب قبرستان اس شہر میں شیعہ نسل کشی کے پیچھے منظم منصوبہ بندی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ جہاں طبعی موت مرنے والے بزرگوں کی تعداد کم اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے نوجوان شہیدوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لگ بھگ ایک ہزار صرف ان کی قبریں ہیں، جو محبت علی علیہ السلام کے جرم میں بے دردی سے قتل کیے گئے۔ ان کی مائیں اور بہنیں سر شام ان کی قبروں پر آجاتی ہیں اور وہاں وقت گزارتی ہیں۔

سانحہ ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ بھی اس نسل کشی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، آج سے ٹھیک تیرہ سال قبل یعنی 16 فروری 2013ء کے ڈھلتے سورج نے ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی دیکھی۔ یہ وہ روز تھا کہ جو دن صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک ایسا زخم ہے، جو آج بھی ہزاروں دلوں میں تازہ ہے۔ کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں اس شام جب زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی، بازار میں بچے ہنستے کھیلتے پھر رہے تھے، مائیں خریداری میں مصروف تھیں اور گھروں میں کھانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، تب ایک دھماکے نے لمحوں میں سب کچھ خاموش کر دیا۔ ایک ہی لمحے میں کتنے خواب بکھر گئے، کتنے گھر اُجڑ گئے، کتنی ماؤں کی گودیں خالی ہوگئیں۔ وہ بچے جو چند لمحے پہلے مسکرا رہے تھے، ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے۔ کئی ایسے گھر تھے، جہاں شام کو دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے والی آنکھیں ہمیشہ کے لیے منتظر رہ گئیں۔ شرپسند دشمنان اہل بیتؑ نے پانی کے ٹینکر میں ہلاکت خیز بارودی مواد بھر کر ہزارہ ٹاون میں واقع مقامی بازار سے متصل کرانی روڈ پر دھماکہ کر دیا۔

اس سانحے میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے، جن میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مگر اصل نقصان اعداد میں نہیں ناپا جا سکتا، کیونکہ اس دن صرف انسان نہیں گئے تھے، امیدیں، خواب اور کئی خاندانوں کی پوری دنیا مٹ گئی تھی۔ آج بھی جب 16 فروری آتی ہے تو ہزارہ ٹاؤن کی فضا جیسے خاموش ہو جاتی ہے، قبروں پر رکھے پھول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ امن کی قیمت کتنی بڑی ہوتی ہے۔ یہ سانحہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ نفرت کی آگ چند لمحوں میں زندگیوں کو جلا دیتی ہے، مگر محبت اور اتحاد ہی وہ راستہ ہے، جو شہداء کی قربانیوں کو زندہ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ اس دھماکہ سے پہلے 10 جنوری 2013ء کو کوئٹہ شہر میں علمدار روڈ پر ایک بھیانک اور ہولناک سانحہ ہوا۔ شدید احتجاج کے بعد 10 روز کے لیے گورنر راج تک لگا دیا گیا، لیکن ریاست ملت تشیع کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آئی اور 17 فروری 2013ء کے روز سانحہ علمدار روڈ کے شہداء کے چہلم سے صرف ایک روز قبل کوئٹہ ایک اور دھماکے کی گونج سے لرز گیا۔

ابھی تو صدمے سے دوچار مومنین سنبھل ہی نہ پائے تھے کہ ایک اور سانحہ پیش آگیا، ایک سانحے کے بعد دوسرا سانحہ، ایک جنازے کے بعد دوسرا جنازہ، یہی کوئٹہ کے شیعہ ہزارہ برادری کا مقدر بن کر رہ گیا۔ اس بیہمانہ قتل عام پر پوری پاکستانی قوم سمیت عالمی برادری دکھی ہوئی تھی اور شہداء کے پسماندگان کے ساتھ بھرپور ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ سانحہ ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ میں 90 کے قریب مومنین شہید جبکہ 200 کے قریب شدید زخمی ہوئے۔ اتنی لاشیں اٹھانے کے باوجود آج بھی ملت تشیع کے نہ حوصلے پست ہوئے اور نہ ہی ان کا صبر ٹوٹا، بس اپنے آقا و مولا امام وقت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو پکارنے کی شدت بڑھتی گئی۔ سانحہ ہزارہ ٹاون ہو یا سانحہ ترلائی اسلام آباد، پاکستان میں اہل تشیع کی شہادتوں کا یہ سلسلہ رک نہیں سکا، جو ریاست کے اس دعوے پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ریاست پاکستان ہر شہری کو "جان و مال" کا تحفظ دینے کی پابند ہے۔
https://taghribnews.com/vdccexqm42bqss8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس