تاریخ شائع کریں2021 11 April گھنٹہ 20:28
خبر کا کوڈ : 499574

پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ

پاکستان کے اہل تشیع محب وطن ہیں، انہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر پاکستان بچانے تک ہر قسم کی قربانی دی ہے۔ آج بھی پاکستان کے دفاع میں ملت تشیع صفِ اول میں ہے۔ یہی قوم ملک کے دفاع میں ہراول دستہ ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ
تحریر: ابو فجر
بشکریہ: اسلام ٹائمز


پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ دن بہ دن گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ لاپتہ ہونیوالے افراد کے لواحقین کراچی میں مزار قائد کے سامنے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ شدید گرمی میں خواتین اور چھوٹے چھوٹے دودھ پیتے معصوم بچے بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔ یقیناً یہ لوگ بلاوجہ اس گرمی میں گھروں سے نہیں نکلے، یہ اپنے پیاروں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنہیں رات کی تاریکی میں گھروں سے اُٹھا لیا گیا۔ ان کا مطالبہ بھی جمہوری ہے کہ ان کے پیارے اگر کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں کورٹ کچہری میں پیش کیا جائے، ان کی چارج شیٹ منظر عام پر لائی جائے، ان کیخلاف مقدمات چلائے جائیں اور ان کو عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں اور اگر انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا تو پھر انہیں کس جرم میں غائب کر دیا گیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو سر اُٹھائے اس ملک کے کرتا دھرتاوں کے سامنے ایستادہ کھڑا ہے۔ مگر اس سوال کا جواب ابھی تک عوام کو ملا ہے نہ عدالتوں کو۔ اگر کوئی ذرا بلند آواز میں اس سوال کو دہراتا ہے تو اسے بھی ‘‘خاموش’’ کروا دیا جاتا ہے۔ یہ ماورائے عدالت اقدامات یقیناً ملکی وقار، امن عامہ اور آئین کی بالادستی کیخلاف ہیں۔

ایک تاثر یہی ہے کہ پاک فوج ان افراد کو غائب کرتی ہے۔ پاک فوج کیخلاف عالمی سطح پر پاکستان دشمن عناصر پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ وہ پاک فوج کیخلاف کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ انڈیا اس پروپیگنڈے میں سرفہرست ہے۔ انڈیا کیساتھ کچھ مغربی ممالک بھی پاک فوج کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مخصوص این جی اوز اور لبرل آرگنائزیشنز کو اسی ایجنڈے پر کاربند کیا گیا ہے۔ یہ این جی اوز اور لبرل طبقہ پاک فوج کیخلاف ایک منظم انداز میں مہم چلائے ہوئے ہے۔ انہی این جی اوز نے لاپتہ بلوچوں کے ایشو کو ‘‘ہائی جیک’’ کرکے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور یہ کوششیں ہنوز جاری ہیں۔ بلوچوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ ابھی تھما نہیں تھا کہ شیعہ لاپتہ ہونے لگ گئے۔ بلوچ محب وطن ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے اس پہلو پر سوچا ہے کہ بلوچوں نے اسلحہ کیوں اُٹھایا اور پہاڑوں پر کیوں چڑھ گئے۔؟

یقیناً ہماری ماضی کی حکومتوں سے کوئی غفلت ایسی ہوئی ہے، جو بلوچوں کی ناراضگی کا باعث بنی، یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ناراض بلوچ بہت کم تعداد میں ہیں، آٹے میں نمک کے برابر، مگر انہوں نے اسلحہ اس لئے اُٹھایا کہ مقامی سرداروں اور وفاقی حکومت کی جانب سے انہیں نظرانداز کیا گیا، ان میں اکثریت سادہ لوح اور ان پڑھ لوگوں کی تھی، جنہیں انڈیا نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ اس کا واضح ثبوت کلبھوشن یادیو کی شکل میں پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ بلوچستان میں پاک فوج کی محنت سے شورش کنٹرول ہوئی۔ شدت پسند ملک سے فرار ہوگئے اور ناراض بلوچوں کی اکثریت نے بھی ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔ اب اگر بات کریں کہ شیعہ افراد کو کیوں لاپتہ کیا گیا؟؟ شیعہ نوجوانوں کا ایسا کون سا جرم ہے، جس کی پاداش میں انہیں گھروں سے گھسیٹتے ہوئے لے جاتے ہیں اور پھر ان کی کوئی خبر نہیں ملتی۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی میں ہماری حکومتوں نے ہی ہمارے عوام کی ذہن سازی کرکے انہیں شیعہ اور سنی (دیوبندی) میں تقسیم کیا۔ جب ہمیں سعودی عرب کی مدد کی ضرورت ہوتی تھی تو ہم کسی سعودی حکمران کو پاکستان دورے کی دعوت دیتے۔ اُن کے استقبال کیلئے سنی (دیوبندی) مدارس سے طلبہ اور سنی (دیوبندی) علماء کی خدمات حاصل کرتے، انہیں ‘‘موٹی ویٹ’’ کرتے کہ سعودی عرب ہمارا ‘‘اَن داتا’’ ہے۔ ان کا فقیدالمثال استقبال ہمارا دینی، مذہبی، اخلاقی اور سیاسی فریضہ ہے۔ یوں اس ذہن سازی سے ہمارے ذہنوں میں پاکستان سے بھی زیادہ سعودی عرب کی محبت پیدا کی گئی۔ اس کے مقابل میں ہمارے ہی حکمرانوں نے ایران سے ‘‘گہری دوستی’’ کیلئے شیعہ مدارس اور شیعہ علماء کی خدمات حاصل کیں۔ ایران کے کسی صدر کا دورہ ہوتا تو شیعہ مدارس کے بچوں کو لا کر ہاتھ میں ایرانی پرچم تھما کر سڑک کی دونوں اطراف کھڑا کر دیا جاتا۔ آنیوالے معزز مہمان کو یہ باور کروایا جاتا کہ پوری ملتِ پاکستان ایران سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔

یہ تاثر دے کر ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے دونوں ملکوں (ایران، سعودی عرب) سے مفادات سمیٹے۔ پاکستانی شیعوں کو ایران کے حق میں اور سنیوں (دیوبندیوں) کو سعودی عرب کے حق میں ایسا تیار کیا گیا کہ دونوں طبقے اپنے اپنے تئیں خود کو ایرانی و سعودی سمجھنے لگ گئے۔ سعودی عرب ہو یا ایران، دونوں ہمارے مسلم بھائی ہیں۔ دونوں ملکوں کی اہمیت ہے، دونوں ممالک میں ہمارے مقامات مقدسہ ہیں۔ ہم دونوں سے الگ نہیں ہوسکتے، ہم دونوں کو اپنا دشمن بھی نہیں بنا سکتے۔ لیکن ہمیں محبت میں بھی اعتدال کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اس معاملے میں حق اور باطل کی پہچان کرنا ہوگی۔ سعودی عرب نے ہمیشہ استعماری قوتوں کا ساتھ دیا ہے۔ سعودی پالیسیوں سے ہمیشہ عالم اسلام کو نقصان پہنچا ہے۔ سعودی پالیسیوں سے اسلام کا چہرہ مسخ ہوا ہے، طالبان سے القاعدہ تک، سپاہ صحابہ سے داعش تک، یہ وہ سلسلے ہیں، جو سعودی سرپرستی میں پروان چڑھائے گئے۔

داعش میں بھرتی کیلئے پاکستان سے افرادی قوت بھجوائی گئی۔ نوجوان تو نوجوان عورتیں تک داعش کی مدد کیلئے عراق و شام پہنچیں۔ ہیلری کلنٹن کا بیان ریکارڈ پر ہے، جس میں وہ کھلے عام اعتراف کرتی ہیں کہ طالبان انہوں نے بنوائے، وہابی اسلام کو انہوں نے پروموٹ کیا، اس کا نتیجہ کیا نکلا؟؟ اسلام بدنام ہوا، اسلام کا چہرہ مسخ ہوا، اسلام امن و بھائی چارے کی مذہب کی بجائے مار دھاڑ اور قتل و غارت کا دین مشہور ہوا۔ جب ہماری حکومت نے پاکستان سے داعش اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کو جوائن کرنیوالوں کیخلاف مجبوری میں آپریشن شروع کیا تو اس میں بھی زیادتی کی گئی اور بیلنس پالیسی کے تحت دیوبندیوں کیساتھ اہل تشیع کو بھی لپیٹ لیا گیا۔ حالانکہ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ جی ایچ کیو سے مہران بیس تک، آرمی پبلک سکول سے آرمی کانوائے تک، حملوں میں کبھی کوئی شیعہ ملوث نہیں ہوا، لیکن اس کے باوجود ہر بار بیلنس پالیسی کے تحت اہل تشیع کو ہی دھر لیا گیا۔

پاک فوج کیخلاف منظم انداز میں پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ جنرل حمید گل کا ایک انٹرویو اب بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ پاک فوج کا کوئی بھی چیف اس وقت تک چیف نہیں بن سکتا، جب تک امریکہ کی کلیئرنس نہ ملے۔ اگر جنرل حمید گل کی اس بات کو سچ مان لیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ فوج میں امریکی اثر و رسوخ ہے، جس کی بدولت فورس سے ایسے ایسے کام بھی کروا لئے جاتے ہیں، جو اس کی اپنی ساکھ کیلئے نقصان دہ ہیں۔ جنرل باجوہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پروفیشنل افسر ہیں۔ پروفیشنلزم کا تقاضا یہ ہے کہ فورس کو جس مقصد کیلئے بنایا گیا ہے، وہ اسی پر کاربند رہے۔ ممکن ہے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی اس طرح کا ہو کہ اعلیٰ قیادت کو اس کا علم ہی نہ ہو اور نچلی سطح پر مخصوص سوچ کے افسر اپنے طور پر اس پر عمل پیرا ہوں۔ ویسے ایسی منظم فورس میں ایسا کوئی اقدام ممکن تو نہیں، لیکن پھر بھی اگر اعلیٰ حکام اس پر توجہ دیں اور فوج کی خراب ہوتی ساکھ کے پیش نظر اس پر نظرثانی کرلیں تو اس کے اثرات مثبت ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے اہل تشیع محب وطن ہیں، انہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر پاکستان بچانے تک ہر قسم کی قربانی دی ہے۔ آج بھی پاکستان کے دفاع میں ملت تشیع صفِ اول میں ہے۔ یہی قوم ملک کے دفاع میں ہراول دستہ ثابت ہوتی ہے۔ اسے متنفر نہ کیا جائے۔ یہ ایک منظم سازش ہے، پاکستان اور پاک فوج کو بدنام کرنے کیلئے، مگر اس بدنامی کے چولے کو خود اُٹھا کو خود ہی نہ پہنا جائے۔ ملک کی سلامتی کیلئے وحدت بنیادی عنصر ہے، قوم کو تقسیم نہ کیا جائے، بلکہ حکومتی سطح پر پیغام پاکستان دستاویز پر مزید عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ قوم متحد ہوگی تو ہی ملک کا دفاع مضبوط ہوگا۔ بلوچ ہوں یا شیعہ، ہر محب وطن کے جذبات کا احترام کیا جائے۔ بلوچ مسنگ پرسنز کی اکثریت واپس آچکی ہے جبکہ شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ بھی حل طلب ہے، جسے فوری حل کیا جانا چاہیئے۔
http://www.taghribnews.com/vdchqwnkk23nwmd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس