"مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا" رہبر شہید کی زندگی اور شہادت میں مجسم ہوا
رہبر شہید کی زندگی اور شہادت میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا قول "مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا" مجسم ہوا، ان کی زہد، مجاہدت، تاریخ معاصر کی گہری سمجھ اور وحدت اسلامی میں نظریہ پردازی نے انہیں ایک ماندگار اور مؤثر شخصیت بنا دیا، اور شہادت نے ان کی زندگی کے معنی کو اوج عطا کیا۔
شیئرینگ :
رہبر شہید کی زندگی اور شہادت میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا قول "مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا" مجسم ہوا، ان کی زہد، مجاہدت، تاریخ معاصر کی گہری سمجھ اور وحدت اسلامی میں نظریہ پردازی نے انہیں ایک ماندگار اور مؤثر شخصیت بنا دیا، اور شہادت نے ان کی زندگی کے معنی کو اوج عطا کیا۔
تقریب نیوز کے مطابق؛ عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل محترم حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حمید شہریاری نے قم میں چالیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے علمی سیشن میں "رہبر شہید کی فکر میں وحدت اسلامی" کے موضوع پر واقعہ عاشورا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے تاریخی قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جب عبیداللہ بن زیاد نے عاشورا کے مصائب کو امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں سے منسوب کیا اور ان کے عمل کو برا بھلا کہا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا "مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا" (میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا)۔ اس لیے اس نقطہ نظر کے معنی اور ان کی زندگی میں خوبصورتی کے سرچشمے پر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: تاریخ میں اس عبارت کی مختلف تفسیریں پیش کی گئی ہیں اور بعض نے اسے ظلم و استکبار کے خلاف جدوجہد میں امام حسین علیہ السلام کے اہداف سے مربوط کیا ہے۔
محترم ڈاکٹر شہریاری نے زندگی کے معنی کے بارے میں مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: انسان تاریخ اور کائنات کی وسعت کے مقابلے میں مختصر عمر رکھتا ہے، لیکن جو چیز اس کی زندگی کو معنادار اور ماندگار بنا سکتی ہے، وہ اس کی موت کے بعد اثر گذاری اور دوسروں کے ذہن و تاریخ میں جو کردار چھوڑتا ہے۔
عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کو تاریخی ماندگاری کی نمایاں ترین مثالوں میں قرار دیا اور کہا: امام حسین علیہ السلام کی شخصیت ظلم کے سامنے استقامت اور ان کے پائیدار اثر کی وجہ سے تاریخ میں زندہ ہے اور یہی ماندگاری ان کی زندگی کو معنی بخشتی ہے۔
انہوں نے رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمی خامنہای کی شخصیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: رہبر شہید بھی ان شخصیات میں سے تھے جنہیں پوری دنیا میں لاکھوں انسان یاد کرتے ہیں اور ان کی شخصیت میں ایسی خصوصیات تھیں جنہوں نے انہیں ایک ماندگار اور مؤثر انسان بنا دیا۔
محترم شہریاری نے رہبر شہید کی پہلی نمایاں خصوصیت زہد اور دنیاوی مال و منصب سے بے اعتنائی کو شمار کیا اور کہا: حتیٰ کہ امام راحل کے بعد ان کی رہبری کے لیے انتخاب کے وقت بھی ان کے رویے اور چہرے میں زہد اور منصب سے بے اعتنائی عیاں تھی اور وہ اپنے لیے کوئی وزن اور مقام نہیں سمجھتے تھے کہ اس طرح کے منصب کا مطالبہ کریں۔ رہبر شہید آخری دن تک سادہ زیست رہے اور تجملات و دنیوی وابستگیوں سے دور رہے۔
عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے مجاہدت کو ان کی دوسری اہم خصوصیت قرار دیا اور کہا: رہبر شہید کی مجاہدت انقلاب سے پہلے کے سالوں سے شروع ہوئی اور جلاوطنی کے دوران، بشمول سیستان و بلوچستان اور پیرانشہر میں جاری رہی، اور انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد بھی وہ جدوجہد کے میدان میں موجود رہے اور جانباز ہوئے۔
انہوں نے سات تیر کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اگر رہبر شہید اس واقعے سے چند روز پہلے جمعہ کی نماز میں زخمی نہ ہوئے ہوتے تو وہ بھی سات تیر کے شہداء میں شامل ہوتے، کیونکہ وہ ہمیشہ جدوجہد کے متن اور میدان میں موجود تھے۔
محترم ڈاکٹر شہریاری نے علم اور معاصر تاریخ و عالمی تحولات کی گہری شناخت کو رہبر شہید کی دیگر نمایاں خصوصیات میں شمار کیا اور کہا: وہ دینی علم کے علاوہ معاصر تاریخ اور عالمی استکبار کے اہداف کی گہری شناخت رکھتے تھے اور اسی حکمت عملی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ بہت سے مستقبل کے تحولات کی پیش گوئی کرتے تھے۔
انہوں نے رہبر شہید کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: انہوں نے بارہا تاکید کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور اس نقطہ نظر کی وجہ کو بھی تجربہ قرار دیا۔ یہ موقف ان کی معاصر تاریخ اور عالمی طاقتوں کے رویے کی گہری شناخت کا نتیجہ تھا۔
عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے وحدت اسلامی اور جدید اسلامی تمدن کے شعبے میں نظریہ پردازی کو رہبر شہید کی شخصیت کے دیگر اہم پہلوؤں میں شمار کیا اور کہا: انہوں نے امت اسلامی کے اتحاد کے بارے میں قابلِ ذکر فکر اور نظریہ پردازی کی اور اس لحاظ سے وہ اسلامی ممالک کے بہت سے رہبروں اور حکمرانوں سے مختلف تھے۔
انہوں نے رہبر شہید کی زندگی میں اس فکر کے عملی مظاہر کا بھی حوالہ دیا اور کہا: ان کی سادہ زیستی پروگراموں اور افطاریوں میں اور اپنے فرزند کو محاذ پر بھیجنا ان عملی مثالوں میں سے تھیں جو اس جذبے کو عمل میں ظاہر کرتی تھیں، ایک ایسا رویہ جس کی بہت سے حکمرانوں اور سیاسی ذمہ داروں میں کم مثالیں ملتی ہیں۔
محترم ڈاکٹر شہریاری نے مخالفین اور ناقدین کے ساتھ رہبر شہید کی شفقت اور سعہ صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: وہ مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں کے ساتھ مہربانی اور سعہ صدر سے پیش آتے تھے اور حتیٰ کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی گفتگو کرتے تھے جو انہیں قبول نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے عمر کے آخری سالوں میں شہادت کو رہبر شہید کی زندگی کے معنی کا اوج قرار دیا اور کہا: ایک انسان کے لیے جس نے اپنی پوری زندگی مجاہدت کی راہ میں گزاری ہو، عمر کے آخری سالوں میں شہادت زندگی کے خوبصورت ترین اور بلند ترین واقعات میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: کہ ایک انسان برسوں تک مجاہدت کی راہ پر چلے اور عمر کے آخری سالوں میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہو، یہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اس نقطہ نظر کا مصداق ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے فرمایا "مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا" (میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا)۔ یہ تصور رہبر شہید کی زندگی میں بھی مجسم ہوا۔
محترم ڈاکٹر شہریاری نے رہبر شہید کے پیکر کا امام رضا علیہ السلام کے جوار میں قرار پانا ان کی شہادت کے دیگر روحانی مظاہر میں شمار کیا اور کہا: ایران اور دیگر مقامات سے لاکھوں افراد کی ان کی رخصتی اور جنازے میں موجودگی بھی اس شخصیت کے عوام اور تاریخ میں ماندگار اور مؤثر مقام کو ظاہر کرتی ہے۔