تاریخ شائع کریں2026 30 August گھنٹہ 17:37
خبر کا کوڈ : 736427
رہبر معظم انقلاب اسلامی کا ہفتہ وحدت کے موقع پر پیغام

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے انسانیت کی سعادت کا افق مزید روشن ہوا / دشمن امت اسلامی کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خواہاں ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہفتہ وحدت کے موقع پر اپنے پیغام میں فرمایا کہ آج حق کی باطل پر اور اسلام کے کفر پر حتمی فتح کا افق ماضی کے تمام ادوار کے مقابلے میں زیادہ عینیّت کے قریب پہنچ گیا ہے، اور مسلمانوں کے اتحاد کو اس عظیم ہدف کا پہلا شرط قرار دیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے انسانیت کی سعادت کا افق مزید روشن ہوا / دشمن امت اسلامی کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خواہاں ہے
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ہفتہ وحدت کے موقع پر اپنے پیغام میں فرمایا کہ آج حق کی باطل پر اور اسلام کے کفر پر حتمی فتح کا افق ماضی کے تمام ادوار کے مقابلے میں زیادہ عینیّت کے قریب پہنچ گیا ہے، اور مسلمانوں کے اتحاد کو اس عظیم ہدف کا پہلا شرط قرار دیا۔

تقریب نیوز کے مطابق؛ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ‌ای کا ہفتہ وحدت کے موقع پر پیغام جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے ساتھ ہم آہنگ ہے، چالیسویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کی اختتامی تقریب میں تلاوت کیا گیا۔ یہ پیغام حجۃ الاسلام محسن قمی، رہبر معظم انقلاب کے دفتر برائے بین الاقوامی تعلقات کے معاون نے پڑھا، جو درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں)۔

میں اشرف مخلوقات، روشن چراغ، خدا کے برگزیدہ، علم کے شہر، رحمۃ للعالمین، رسول اکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاک و پاکیزہ فرزند، الٰہی حجت بالغہ، امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت کے ایام کی ایران کی شریف قوم اور عظیم امت اسلامی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

جب سے خاتم المرسلین کا وجود مبارک مکہ مکرمہ میں طلوع ہوا، انسانیت کی سعادت کا افق جس کا انحصار بندگی اور حق تعالیٰ کی اطاعت کے کمال پر ہے، ایک نئی روشنی پا گیا؛ انبیاء اور الٰہی و قدسی فرشتوں کی ارواح شادماں ہو گئیں اور انس و جن کے شیاطین نے غیظ و حسرت سے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔

کیونکہ خدا کی مخلوقات میں سب سے افضل ہستی تمام کائنات میں خاکی عرصے پر قدم رکھ رہی تھی اور عنقریب نبوت و خاتمیت کا خلعت پہن کر اور قرآن عظیم کو ہاتھ میں لے کر انسان کی ہمہ گیر ہدایت کی مہم کے ساتھ بشریت کے عظیم کارواں کو عبودیت اور الی اللہ تکمیل کی طرف لے جانے والی تھی۔

آپ کی زندگی اور آپ کے معصوم اوصیاء کی زندگی مکمل طور پر ہدایت و بندگی کا سبق، معرفت و محبت کا سبق، عقیدہ و جہاد کا سبق، زندگی اور انفرادی و اجتماعی حسن اخلاق کا سبق، امانت و صداقت کا سبق، عزت و کرامت کا سبق، علم و عمل کا سبق، رحمت و قاطعیت کا سبق، قسط و عدل کا سبق، اور وحدت و بھائی چارے کا سبق ہے۔ یہ سبق جتنا بہتر سیکھے جائیں اور ان پر عمل کیا جائے، بنی نوع انسان کے لیے سعادت و نیک بختی کے عروج تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہوگا۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ پیغمبر رحمت کی پاک روح اور ان کے اوصیاء اور طاہر حجج کی پاکیزہ ارواح ہمیشہ مسلمانوں اور اسلامی معاشرے کی حالت پر نگہبان، ہدایتگر اور مہربان ہیں۔ جب اس مہربان اور عظیم باپ کے فرزندوں سے کوئی خطا سرزد ہوتی ہے تو ان کا خاطر رنجیدہ ہوتا ہے اور جب مسلمین ان کے اسباق اور احکام پر عمل کرتے ہیں تو ان کا مبارک دل شادمان ہوتا ہے۔

اسلام اور اس کے پیروکار اب صدر اول سے لے کر اب تک سخت اور پرآشوب ادوار اور متعدد فراز و نشیب سے گزرنے کے بعد ایک سرنوشت ساز اور تعیین کنندہ مرحلے پر پہنچ گئے ہیں۔ آج مسلمین ایک بہت مؤثر اور تاریخ ساز کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آج وہ دن ہے جب حق کی باطل پر اور اسلام کے کفر پر حتمی فتح کا افق ماضی کے تمام ادوار کے مقابلے میں زیادہ عینیّت کے قریب پہنچ گیا ہے۔

اس اہم امر کی پہلا شرط مسلمانوں کا وحدت کلمہ ہے۔ مسلمانوں کی عالمی کفر کے مقابلے میں وحدت ایک قرآنی حکمت عملی اور اسلام ناب محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اصیل تعلیم ہے، کوئی سطحی اور عارضی مسئلہ نہیں ہے۔ وحدت سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشروں کی عمومی سطح پر سب کے درمیان مشترکہ نکات کو محور اور اصل قرار دیا جائے۔ البتہ کوشش کی جاتی ہے کہ استدلال کی پشت پناہی اور بھائی چارے اور ہم آہنگی کے تمام شئون کی رعایت کے ساتھ، اور جیسا کہ قرآنی تعلیمات سے ظاہر ہوتا ہے، پورے صلح و صفا کے ساتھ اختلاف کے نکات کو مشترکہ نکات میں تبدیل کیا جائے۔

یقینی امر یہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں مسلمانوں کو عالمی کفر کا مقابلہ کرتے ہوئے قرآنی اصول "أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" کو اپنی فکر، بیان اور عمل کا محور بنانا چاہیے اور اسی طرح اسلامی وحدت و اتحاد حاصل ہوتا ہے۔ جب بھی اس آسمانی پیغام کے دو حصوں میں سے کوئی ایک حصہ مسلمانوں کے عمل کے مرحلے سے دور ہو جاتا ہے تو وہ اس عزت کے مقام سے بھی دور ہو جائیں گے جو بحق وہ مدینۃ الاسلام میں حاصل کر چکے تھے، اور یہ ایک ایسا اصول ہے جس میں کوئی تخلف نہیں ہے۔

یہ اصول انقلاب اسلامی کے بنیادی اصولوں اور پیغامات میں سے ایک ہے۔ پہلے ہفتہ وحدت کا انعقاد مارچ 1978 اور پہلوی ظالم نظام کے خلاف جدوجہد کے دور سے تعلق رکھتا ہے، جب رہبر شہید عظیم الشان نے ایرانشہر میں جلاوطنی کے دوران اس فکر کو مطرح کیا اور شیعہ و سنی نے اس کا استقبال کیا۔ انقلاب اسلامی کی فتح کے فوراً بعد، اسلامی جمہوریہ کے بانی حضرت امام خمینی قدس سرہ الشریف کی تدبیر سے "ہفتہ وحدت" کو رسمیت دی گئی۔ بار تعالیٰ کے فضل سے، مسلمان قوم کے درمیان وحدت کا مسئلہ ایران کی قوم میں ایک کامیاب نمونہ رکھتا ہے اور دشمنوں کی سازشوں کا اسے متاثر کرنے میں زیادہ اثر نہیں رہا۔

لیکن یقیناً بدخواہ ہمیشہ اس عظیم نعمت کی گھات میں ہیں۔ جو چیز انہیں امیدوار بناتی ہے، وہ اختلافات کو اجاگر کرنا ہے۔ عقیدتی اور مذہبی اختلافات اگرچہ اسلام کے دشمن کے مقصد کا ایک اہم پہلو شمار ہوتے ہیں اور وہ اس کے استعمال سے بہت دل بستہ ہے، لیکن وہ اسی پر اکتفا نہیں کرے گا اور وہ ہر طرح کی نسلی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی تفاوت کو ایران اور کسی بھی دوسرے اسلامی ملک کے مسلمان عوام کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے بہانے بنانے کی کوشش کرے گا تاکہ اس نقطہ نظر سے امت اسلامی کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور اس کی قوتوں کے تحلیل ہونے کا تماشا دیکھے اور مناسب موقع پر ان پر اپنا تسلط مسلط کرے۔ ان معاملات میں قرآن کریم کا حکم آیت کریمہ "وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ" (اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی) میں بیان ہوا ہے۔ اس لیے کوئی بھی شخص کسی بھی مقام پر، جو بھی عمل جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ کا باعث بنے اور مسلم معاشرے میں تنازع پیدا کرے، وہ جان بوجھ کر یا نادانستہ، خواہشاً یا ناخواستہ، اسلام کے دشمنوں کے مقصد کو پورا کر رہا ہے۔ اور اس دور میں کوئی شخص کس طرح اس طرح کے عمل کو اپنی جہالت اور غفلت سے منسوب کر سکتا ہے جبکہ اب دنیا کے طاغوت اور ان کے سربراہ مجرم امریکہ نے اپنے استعماری اہداف اور استکباری و سلطه جویانہ منصوبوں کے فریب دینے والے اور پوشالی نقاب چہرے سے ہٹا دیے ہیں اور فریب دینے والے مخملین دستانے اتار کر اپنے خون آلود پنجے پوری دنیا کو دکھا دیے ہیں؟

اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان غور کریں اور واقعات کو زیادہ غور سے دیکھیں۔ کیا اگر مسلمان ید واحد ہوتے جو اپنی مٹھی مضبوطی سے بھینچ لیتے تو فلسطین کی قوم اس طرح لاوارث، جارحیں کے ظلم اور جرم کا شکار ہوتی؟ اور کیا اگر خلیج فارس کے ساحلوں پر آباد اقوام اور حکومتیں اسلام کے پرچم تلے اپنا اتحاد قائم کر لیتیں تو عدم شناخت کے حامل بدکار لوگ ہزاروں کلومیٹر دور سے ان کی سرزمینوں اور اموال پر طمع کرنے کی جرات کرتے؟

میری حکام اسلامی ممالک، خاص طور پر مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو مؤکد اور مکرر نصیحت ہے کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں اور اس کی سازش سمجھ کر اس کا مقابلہ کریں۔ امت اسلامی کی مشکلات کا علاج وحدت کلمہ، دوستی اور نیکی کی راہ میں تعاون ہے۔ امریکہ کے مجرم حکمران اور جعلی صہیونی نظام اس اتحاد اور دوستی کے قسم خوردہ دشمن ہیں۔ وہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران اور ایران کی قوم اور مقاومت اسلامی کے عظیم محاذ کے دشمن نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری امت اسلام اور بشمول مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کی اقوام کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں اور اس معاملے میں ان ممالک کے حکام بھی جن میں سے بہت سے ان کے شریک کار شمار ہوتے ہیں، اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں، جیسا کہ استکبار کے سربراہوں کی طرف سے بعض اسلامی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ کھلی بے عزتی اور بدترین تعبیرات کا استعمال آپکی اور ہماری قریبی یادداشت میں موجود ہے۔

اتحاد اور عدم اختلاف کا اہم سبق، مکتب اسلام کا دشمن اور دوست کے ساتھ مقابلے کے نوعیت کے بارے میں پہلا سبق ہے۔ لیکن دوسرا سبق کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کا دفاع کرنا ہے اور تیسرا سبق مسلمانوں کی مادی اور معنوی زندگی کے مختلف معاملات میں دولت، سلامتی، علم اور ترقی کے لحاظ سے ہر قسم کے تعاون اور ہم افزائی ہیں، جس کے راستے کا انجام جدید اسلامی تمدن تک پہنچنا ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کے درمیان وحدت، عزیز اور غالب اسلامی تمدن تک پہنچنے کے لیے بنیادی سنگ بنیاد ہے۔ یہ تصوراتی اور فکری عمل جس میں عالم اسلام کے لیے ہماری آرزو مضمر ہے، اپنے طور پر عزیز ایران میں ایک قابل قبول حد تک تحقق کا روپ دھار چکی ہے اور اس خادم کی دیگر اقوام کے افراد کو باربار یہی توصیہ ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے درمیان کسی بھی اختلاف کے ظہور کی اجازت نہ دیں۔

آخر میں امید ہے کہ رسول مکرم اور ان کی عترت مطہرہ کی شفاعتوں کے ساتھ، الٰہی فضل کی رحمت و برکت کا سایہ اسلامی معاشروں پر پڑے اور وہ الٰہی احکام پر عمل کے سائے میں روز بروز ترقی اور عزت کی سیڑھیاں پہلے سے زیادہ طے کریں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبی حسینی خامنہ‌ای
30 اگست 2026
۱۷/ربیع الاول/۱۴۴۸
https://taghribnews.com/vdcirqayyt1ap52.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس