ایران خود کو ’’ارادوں کی جنگ‘‘ میں کامیاب سمجھتا ہے
امریکی مصنف اور عسکری کارروائیوں کے حامی مارک تھیسن نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران اکتوبر میں امریکی مفادات یا اتحادیوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے
شیئرینگ :
امریکی مصنف اور عسکری کارروائیوں کے حامی مارک تھیسن نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران اکتوبر میں امریکی مفادات یا اتحادیوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، اس خدشے کو بنیاد بنا کر انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کی قیادت اور اس کے اقتصادی، تیل اور جوہری ڈھانچے کے خلاف فوری فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مارک تھیسن نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا کہ ایران امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے کشیدگی بڑھا سکتا ہے، جس میں توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکی فوجیوں پر حملے یا حتیٰ کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سرزمین پر کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
تھیسن نے دعویٰ کیا کہ ایران خود کو ’’ارادوں کی جنگ‘‘ میں کامیاب سمجھتا ہے اور یہ تصور کر سکتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن فوجی کارروائی کی طرف بڑھے گا۔
ان کے بقول، اس سوچ کے نتیجے میں تہران ایسے وقت میں دوبارہ محاذ آرائی شروع کر سکتا ہے جب اس کے سیاسی اثرات صدر ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہوں گے۔
امریکی مصنف نے اسی بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایسے ممکنہ منظرنامے کو روکنے کے لیے ایران کی قیادت اور اس کے اقتصادی، تیل اور جوہری ڈھانچے کے خلاف فوری طور پر ’’فیصلہ کن ضرب‘‘ لگائے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو ایران کی جانب سے اکتوبر میں کسی ممکنہ اقدام سے پہلے پہل اپنے ہاتھ میں لینی چاہیے اور فوجی کارروائی کا وقت امریکی مفادات کے مطابق طے کرنا چاہیے۔
یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مارک تھیسن ایران کے خلاف فوجی آپشن کے نمایاں حامیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی تجویز مستقبل میں ممکنہ اقدام کے ایک مفروضے پر مبنی ہے۔
تھیسن نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران اکتوبر میں کوئی کارروائی کرتا ہے تو امریکا کے پاس وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ ان کا مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا میں جنگ کے حامی حلقے ممکنہ خطرات کو نمایاں کرکے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے سیاسی ماحول ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔