تاریخ شائع کریں2026 22 August گھنٹہ 19:12
خبر کا کوڈ : 735020

عراق میں سیاسی نااہلی کے مظاہر میں اضافہ تشویشناک ہے

بغداد کے امام جمعہ اور نجف کے ممتاز عالم دین آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے کہا ہے کہ عراق میں سیاسی و معاشی بدانتظامی، عوامی خدمات کی ناقص صورتحال اور سیاسی فیصلوں میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے ملک کو کئی سطحوں پر بحران سے دوچار کر دیا ہے
عراق میں سیاسی نااہلی کے مظاہر میں اضافہ تشویشناک ہے

بغداد کے امام جمعہ اور نجف کے ممتاز عالم دین آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے کہا ہے کہ عراق میں سیاسی و معاشی بدانتظامی، عوامی خدمات کی ناقص صورتحال اور سیاسی فیصلوں میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے ملک کو کئی سطحوں پر بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے خطے میں اسرائیلی خطرات کے مقابلے میں عراق کی جانب سے قومی اور اصولی مؤقف اپنانے پر بھی زور دیا۔

آیت اللہ الموسوی نے کہا کہ امام جمعہ کی ذمہ داریوں میں سیاسی، معاشی، سماجی اور سکیورٹی کے مسائل پر اظہارِ خیال اور غلطیوں کی اصلاح کے لیے رہنمائی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دینی قیادت کو صرف منفی پہلوؤں کی نشاندہی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ جہاں کوئی اچھا اقدام ہو، اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے، تاہم موجودہ حالات میں عراق میں سیاسی نااہلی کے مظاہر میں اضافہ تشویشناک ہے۔

بغداد کے امام جمعہ نے کہا کہ عراق کو چلانے والے بیشتر رہنما اور عہدیدار، خواہ ان کا تعلق کسی بھی قوم، مذہب یا مسلک سے ہو، ملک کی سیاسی و معاشی ناکامیوں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تنقید تمام عہدیداروں پر لاگو نہیں ہوتی، تاہم اکثریت نے انتخابات میں عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں مطلوبہ انداز میں ادا نہیں کیں۔

آیت اللہ الموسوی نے مزید کہا کہ حکومت سازی کا عمل قومی مسائل کے حل کے بجائے محدود مفادات اور مراعات کے حصول کی کشمکش بن چکا ہے، جبکہ سیاسی دھڑے عراق اور خطے کو درپیش بڑے خطرات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا ایک وسیع جنگی صورتحال سے گزر رہی ہے لیکن بعض عراقی عہدیدار اب بھی ذاتی مفادات اور سیاسی حساب کتاب میں مصروف ہیں اور عوامی مفادات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

امام جمعہ بغداد نے موجودہ وزیر اعظم کے انتخاب کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انہی جماعتوں نے اپنی مرضی سے کیا تھا، اس لیے موجودہ حکومت کی کمزور کارکردگی بھی ایک غلط انتخاب کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے بعض وزارتوں کو مستقل وزرا کے بجائے قائم مقام حکام کے ذریعے چلانے اور کابینہ کی تکمیل نہ ہونے پر بھی تنقید کی اور اسے ایک ادارہ جاتی خامی قرار دیا۔

آیت اللہ یاسین الموسوی نے عراق کی سیاسی قیادت میں امریکا پر بڑھتے انحصار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سرپرستی قبول کرنے کی پالیسی صرف وزیر اعظم کی ذمہ داری نہیں بلکہ اقتدار کے ڈھانچے میں شامل دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس میں شریک ہیں اور امریکی مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔

انہوں نے قومی قوتوں اور مزاحمتی عناصر کے خلاف طاقت کے استعمال یا انہیں گرفتار کرنے سے متعلق بعض بیانات پر بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایسا طرزِ عمل عراق کی قومی خودمختاری کے منافی اور انتہائی خطرناک ہے۔

https://taghribnews.com/vdcgxn9uzak9wz4.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس