امریکہ، غزہ میں ایک فوجی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے
اس اڈے میں 26 بکتر بند واچ ٹاورز، متعدد پناہ گاہیں، ہلکے ہتھیاروں کی مشق کے لئے میدان اور فوجی سازوسامان ذخیرہ کرنے کے گودام شامل ہوں گے
شیئرینگ :
برطانوی اخبار "گارڈین" نے ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ، غزہ میں ایک فوجی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کو تعینات کرنے کی گنجائش ہوگی.
تفصیلات کے مطابق اس اڈے میں 26 بکتر بند واچ ٹاورز، متعدد پناہ گاہیں، ہلکے ہتھیاروں کی مشق کے لئے میدان اور فوجی سازوسامان ذخیرہ کرنے کے گودام شامل ہوں گے۔ اس پورے کمپلیکس کو خاردار تاروں سے گھیرنے کا منصوبہ ہے۔ گارڈین نے مزید بتایا کہ اڈے کی مجوزہ جگہ جنوبی غزہ کے ایک کھلے اور کم آبادی والے علاقے میں ہے، جہاں صیہونی رژیم کی بمباری سے ہونے والی تباہی کے آثار، وسیع پیمانے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متحارب علاقوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے نمائندے پہلے ہی اس جگہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس مشکوک معاہدے کی دستاویزات میں سرنگوں اور زیر زمین جگہوں کی جانچ کی ضرورت کا بھی ذکر ہے، جو درحقیقت فلسطینی مزاحمت کی سرنگوں کے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔
ان دستاویزات میں ایک حصہ انسانی باقیات کے بارے میں ہے جو صیہونی بمباری کے ذریعے ملبے تلے دبی ہیں۔ ہزاروں لاشیں ملبے تلے ہونے کے باعث یہ موضوع انتہائی حساس قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) سے اس اڈے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب "امن کونسل" سے لیا جائے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ غزہ کی سرزمین پر کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں ہو گا۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے "پیس بورڈ" کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی فورس تشکیل دینے کا ذمہ دیا۔ تاہم ابھی تک اس فورس کے مشن میں کئی ابہامات موجود ہیں جس میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنے میں اس فورس کا کردار، سرفہرست ہے۔