تاریخ شائع کریں2026 17 February گھنٹہ 11:06
خبر کا کوڈ : 710002

حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لئے صہیونی حکومت کی نئی مہلت

یو سی فوکس نے کہا کہ اس عرصے میں حماس کو تمام اسلحہ، حتیٰ کہ رائفلیں اور اے کے-47 بھی مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کرنا ہوں گی، اسرائیل اس عمل کا جائزہ لے گا اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوا تو بہتر ورنہ فوج کو اپنا مشن مکمل کرنا پڑے گا۔
حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لئے صہیونی حکومت کی نئی مہلت
صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے پاس اسلحہ ڈالنے کے لیے 60 دن ہیں، بصورت دیگر صہیونی فوج کارروائی مکمل کرے گی۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف صہیونی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون اور کابینہ سیکریٹری یو سی فوکس نے حالیہ انٹرویو میں کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ 60 روز کی یہ مہلت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی درخواست پر دی جا رہی ہے اور اسرائیل نے امریکی درخواست کا احترام کیا ہے۔

یو سی فوکس نے کہا کہ اس عرصے میں حماس کو تمام اسلحہ، حتیٰ کہ رائفلیں اور اے کے-47 بھی مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کرنا ہوں گی، اسرائیل اس عمل کا جائزہ لے گا اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوا تو بہتر ورنہ فوج کو اپنا مشن مکمل کرنا پڑے گا۔

کابینہ سیکریٹری کے بقول ایک معقول اندازہ ہے کہ ممکنہ طور پر جون میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے پہلے یا تو حماس ہتھیار ڈال دے گی یا پھر غزہ میں شدید قسم کی فوجی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں حماس کی تیار کردہ تمام سرنگوں کو تباہ کرنا بھی شامل ہے، حتیٰ کہ سرحد کے اسرائیلی حصے میں موجود سرنگیں بھی ختم کی جائیں گی، غزہ سرحد کے قریب واقع کیبوتس بیئری کا حوالہ دیتے ہوئے یو سی فوکس نے کہا کہ آج وہاں کھیتوں میں ہل چلانے والا شخص سمندر دیکھ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ابھی واضح نہیں کہ اس 60 روزہ مدت کا آغاز کب سے ہوا اور نہ ہی اس بارے میں صہیونی وزیراعظم، امریکی صدر اور حماس کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔
https://taghribnews.com/vdcjyyea8uqevyz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس