تاریخ شائع کریں2026 14 February گھنٹہ 21:32
خبر کا کوڈ : 709664

صیہونی دشمن، امریکہ کی مدد سے سارے خطے پر تسلط چاہتا ہے

یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله" كے سربراہ "سید عبدالمالک الحوثی" نے رمضان المبارک کی آمد کی مناسبت سے آج ایک خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو درپیش مشکلات اور نقصانات کا ایک بڑا حصہ اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کے باعث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورت حال، تقویٰ میں کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
صیہونی دشمن، امریکہ کی مدد سے سارے خطے پر تسلط چاہتا ہے
یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله" كے سربراہ "سید عبدالمالک الحوثی" نے رمضان المبارک کی آمد کی مناسبت سے آج ایک خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو درپیش مشکلات اور نقصانات کا ایک بڑا حصہ اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کے باعث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورت حال، تقویٰ میں کمزوری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

سید عبدالمالک الحوثی نے دینی تربیت کے شعبے میں موجود خامیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ، دینی تربیت کے میدان میں شدید خلل کا شکار ہے۔ اس سلسلے میں حکومتوں اور ریاستوں نے بھی معاشرے کے لئے ایک مکمل اور جامع نمونہ فراہم کرنے میں بڑی کوتاہی کی ہے۔ آج ہم عالم اسلام کے خلاف بڑی سطح پر اور تمام وسائل کے ساتھ ایک گمراہ کن جنگ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جس کی تاریخ بشریت میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی معاشرے کے وجود میں آنے سے لے کر آج تک، ہم نے اس سطح پر شیطانی سرگرمیاں نہیں دیکھیں۔ منظم طریقے سے وسیع ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے، انسان کی روح اور انسانیت کو تباہ کیا جا سکے، اسے انسانی دائرے سے نکال کر حیوانوں جیسا بنا دیا جائے، یہاں تک کہ اس کے اندر انسانیت کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔

یمن میں انقلاب کے روحِ رواں نے کہا کہ خطے میں جاری پیش رفت، ایک خطرناک محور کے گرد مرکوز ہے۔ ایسے حالات بنائے جا رہے ہیں جس میں اسلامی امتوں پر حملہ و زیادتی کو ایک عام اور قبول شدہ امر کے طور پر پیش کیا جائے۔ انہوں نے فلسطین، لبنان اور شام کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی رژیم ان ممالک میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ اسرائیل، ایک جانب غزہ میں مسلسل قتل عام اور محاصرے کو شدت دے رہا ہے تو دوسری جانب مغربی کنارے کو لپیٹنے اور سابقہ معاہدوں بالخصوص اوسلو معاہدے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سید عبدالمالک الحوثی نے مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری حملوں اور فلسطین میں اسلامی تشخص کو مٹانے کی کوشش کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے كہا كہ صیہونی رژیم، لبنان پر "حزب الله" کو غیر مسلح کرنے کے لئے اس وقت دباؤ ڈال رہی ہے جب خود اپنے آبادكاروں كو ہر طرح سے مسلح کر رہی ہے۔ انہوں نے شام میں جاری حملوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی دشمن، امریکہ کی مدد سے سارے خطے پر تسلط چاہتا ہے۔ دشمن کی توجہ ایران پر اس لئے ہے کیونکہ تہران، ان کے منصوبوں میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
 
انہوں نے دشمن کے خلاف، ایران کے موقف کو مضبوط اور پائیدار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں ایرانی عوام کا میدان میں موجود ہونا، اہم بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کر رہا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ تصادم کا ایک نیا مرحلہ نزدیک ہے۔ سید عبدالمالک الحوثی نے جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویزات، صیہونیت کی پشت پردہ کارروائیوں کا انکشاف کرتی ہیں اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح بعض حلقے، رہنماؤں اور سیاسی شخصیات کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دستاویزات نے ان رسومات و رویوں سے پردہ اٹھایا جن میں کم عمر بچوں اور لڑکیوں کے خلاف سنگین جرائم رونماء ہوئے۔ سیدِ الحوثی نے زور دیا کہ اس کیس کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے، کیونکہ اس میں سیاسی اشرافیہ کے ایک بڑے حصے کی کارستانیاں شامل ہیں۔
https://taghribnews.com/vdcb09bzarhbg0p.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس