اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی "فرانچسکا آلبانیز" کو منظم مہم کا سامنا ہے
فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے كہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی "فرانچسکا آلبانیز" کو منظم مہم کا سامنا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ انہیں ضمیر، انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون سے اخذ کردہ موقف کی وجہ سے سزا دینے کا پہلے سے طے شدہ ارادہ ہے۔
شیئرینگ :
فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے كہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی "فرانچسکا آلبانیز" کو منظم مہم کا سامنا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ انہیں ضمیر، انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون سے اخذ کردہ موقف کی وجہ سے سزا دینے کا پہلے سے طے شدہ ارادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرانچسکا آلبانیز کے خلاف شروع کی گئی مہم، کھلم کھلا سیاسی منافقت اور دوہرے معیار کی عکاس ہے۔ یہ دوہرا معیار، مغربی حکومتوں کی جانب سے صیہونی رژیم اور مقبوضہ فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے خوب عیاں ہوتا ہے۔ حماس نے موقف اپنایا کہ فرانچسکا آلبانیز کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈہ دراصل فلسطینی عوام کی مدد اور انصاف کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔
حماس نے تعجب کیا کہ کیسے اتنے سنگین جرائم کے ارتکاب کے بعد، اسرائیل خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔ انسانیت سوز جرائم کے باوجود مغربی حکومتیں بھی صیہونی رژیم کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین میں انسانی حقوق کے ناظر کے طور پر فرانچسکا آلبانیز تعینات ہیں۔ اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے انسانیت کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی رپورٹس دنیا اور اپنے پلیٹ فارم کے سامنے پیش کیں۔ جس پر انہیں یورپ اور مغرب کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اور تو اور، میڈیا میں ان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈہ مہم بھی جاری ہے۔ جس پر اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن آفس کی ترجمان "مارٹا ہورٹاڈو" نے کہا کہ ہیومن رائٹس کمیشن، اقوام متحدہ کے آزاد ماہرین کو نشانہ بنانے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔