اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے یورپ كی پسماندگی اور ناكارگی پر افسوس کرتے ہوئے كہا کہ عام طور پر ایک سنجیدہ اور معتبر سمجھی جانے والی میونخ سیکورٹی کانفرنس، ایران کے معاملے میں میونخ سرکس میں تبدیل ہو گئی ہے۔
شیئرینگ :
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے یورپ كی پسماندگی اور ناكارگی پر افسوس کرتے ہوئے كہا کہ عام طور پر ایک سنجیدہ اور معتبر سمجھی جانے والی میونخ سیکورٹی کانفرنس، ایران کے معاملے میں میونخ سرکس میں تبدیل ہو گئی ہے۔
یہ زوال اہم پیغامات رکھتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کیا۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ یورپی یونین پریشان نظر آتی ہے۔ اس پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایران کے اندر رونماء ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ تزویراتی نقطہ نظر سے، بے مقصد یورپی یونین نے، ہمارے خطے میں اپنا تمام جغرافیائی سیاسی وزن کھو دیا ہے۔
خاص طور پر جرمنی، اپنی علاقائی پالیسی مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کرنے میں پیش پیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ کی مجموعی سمت بہت تشویش ناک اور خطرناک ہے۔
سید عباس عراقچی نے ازخود یہ سوال ابھارا کہ عملی طور پر اس صورتحال کا کیا مطلب ہے؟۔ پھر اس کا جواب دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات میں یورپی یونین و یورپی مثلث کا مفلوج اور غیر اہم ہونا واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب کبھی یورپ مذاکرات میں اہم فریق ہوا کرتا تھا مگر اب صورت حال یہ ہے کہ وہ بالکل غیر موثر ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس، خطے میں ہمارے دوست اس ناکارہ اور پسماندہ یورپی ٹروئیکا سے کہیں زیادہ موثر و مفید کردار ادا کر رہے ہیں۔