تاریخ شائع کریں2026 14 February گھنٹہ 20:56
خبر کا کوڈ : 709650

آیت اللہ العظمی سبحانی کے دفتر سے خواتین کی موٹر سائیکل سواری سے متعلق پوچھے گئے استفتاء کے بارے میں وضاحت

حضرت آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی کے فقہی نقطۂ نظر کے مطابق شرعی حکم کا محور خود عمل یا وسیلہ نہیں بلکہ وہ عنوان ہے جو عمل کے دوران متحقق ہوتا ہے
آیت اللہ العظمی سبحانی کے دفتر سے خواتین کی موٹر سائیکل سواری سے متعلق پوچھے گئے استفتاء کے بارے میں وضاحت
آیت اللہ العظمی سبحانی کے دفتر سے خواتین کی موٹر سائیکل سواری سے متعلق پوچھے گئے استفتاء کے بارے میں دفترِ معظم لہ نے اس سلسلے میں وضاحت فراہم کی ہے جو قارئین کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔

حضرت آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی کے فقہی نقطۂ نظر کے مطابق شرعی حکم کا محور خود عمل یا وسیلہ نہیں بلکہ وہ عنوان ہے جو عمل کے دوران متحقق ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے خواتین کی گھڑسواری کے بارے میں دفتر کی جانب سے واضح کیا جا چکا ہے کہ اگر سواری تنگ لباس کے ساتھ اور اس انداز میں ہو جو تحریک کا باعث بنے تو جائز نہیں ہے لہٰذا حرمت کا موضوع گھڑسواری یا بطورِ خاص کوئی وسیلہ نہیں بلکہ تبرّج، تحریک یا مفسدہ جیسے عناوین کا تحقق ہے۔

اسی بنیاد پر خواتین کی موٹر سائیکل سواری بھی بذاتِ خود حرام نہیں سمجھی جاتی لیکن اگر یہ نامناسب پوشش کے ساتھ ہو یا نمائش اور سماجی مفسدہ کا سبب بنے تو حکمِ حرمت کے دائرے میں آ جائے گی۔
اس کے برعکس محض موٹر سائیکل سواری فی نفسہٖ حرمت کی شرعی دلیل نہیں رکھتی اور اس کے انجام دینے کے طریقے میں اصل معیار شرعی اور اخلاقی ضوابط کی رعایت ہے۔
https://taghribnews.com/vdcgny9uzak9z34.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس