عالم اسلام مضبوط ثقافتی اور تاریخی مشترکات کا حامل ہے
صدرِِ مملکت ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ توقع ہے کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے لیے حالات کو آسان بنائیں گے اور مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کریں گے۔
شیئرینگ :
صدرِِ مملکت ڈاکٹر پزشکیان نے ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ ملاقات میں عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کی حساسیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں کہ جب مسلم اقوام کے مشترکہ دشمن دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، توقع ہے کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے لیے حالات کو آسان بنائیں گے اور مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق، مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے ان تعلقات کو مضبوط، حقیقی اور وسیع تر ترقی کی صلاحیتوں کا حامل قرار دیا اور کہا کہ "اگر اسلامی ممالک ایک عزم واحد کے دائرے میں اور اتحاد و یکجہتی اور تجربات کے تبادلے کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت مسلم اقوام کے درمیان مسائل و مشکلات پیدا نہیں کر سکے گی۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات اور اسٹریٹیجک یکجہتی میں تقویت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خطے کے بعض موجودہ بحرانوں کو بعض مداخلت پسند عناصر کی سازشوں اور اختلافات کو ہوا دینے کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ "ان بحرانوں کا ہدف خطے پر اپنے مزموم ارادوں اور پالیسیوں کو مسلط کرنا اور اسلامی ممالک کی ترقی و پیش رفت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔"
انہوں نے یورپ کے تجربے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کی ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل کی طویل تاریخ رہی ہے لیکن آج ان کے درمیان سرحدوں کی زیادہ مشکل نہیں ہے بلکہ ان ملکوں نے ایک مشترکہ مالی، سیاسی، تجارتی اور مواصلاتی نظام قائم کر لیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ عالم اسلام تو کہیں زیادہ مضبوط ثقافتی اور تاریخی مشترکات کا حامل ہے اور اگر اختلافات دور کر لئے جائیں تو یقینی طور پر تجارت، علم اور ثقافت کے ذریعہ مختلف میدانوں میں باہمی ترقی اور مضبوط تعاون کی راہ ہموار ہوجائے گی۔