ونزوئیلا کی فضائی حدود کی بندش امریکی سامراجی ذہنیت کی عکاسی ہے
کیوبا نے امریکا کی جانب سے ونزوئیلا کی فضائی حدود بند کرنے کے اقدام کو دشمنی پر مبنی اور خطرناک قرار دیا۔
شیئرینگ :
کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو رودریگز نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کی جانب سے ونزوئیلا کی فضائی حدود بند کرنے کے اقدام کو دشمنی پر مبنی قرار دیتا ہے اور اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔
رودریگز نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین خطرہ ہے اور ونزوئیلا کے خلاف عسکری تجاوز اور نفسیاتی جنگ کے عمل کو تیز کرنے کے مترادف ہے۔
کاراکاس حکومت نے بھی اپنے سرکاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ونزوئیلا کی فضائی حدود سے متعلق بیانات کو یکطرفہ اور خودسری و دشمنی پر مبنی قرار دیا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ لاطینی امریکا کے بارے میں ٹرمپ کے اظهارات استعماری نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔
ونزوئیلا نے اپنی فضائی حدود کے مکمل احترام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بیرونی حکم یا دھمکی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ونزوئیلا کے اوپر اور اطراف کی تمام فضائی حدود آئندہ اطلاع تک بند رہیں گی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشال پر کہا کہ فضائی کمپنیوں، منشیات کے اسمگلروں اور انسانی اسمگلروں کو ونزوئیلا کی فضائی حدود مکمل طور پر بند تصور کرنی چاہیے۔