تاریخ شائع کریں2022 7 December گھنٹہ 19:33
خبر کا کوڈ : 576169

ایران نے روس کو بیلسٹک میزائل نہیں دیے،یوکرین

یوکرینی صدر کے سینئر مشیر نے کیف کی جانب سے ایران کے پر سنگین الزامات کے باوجود کہا کہ تہران نے ابھی تک روس کو بیلسٹک میزائل نہیں دیے اور مستقبل میں بھی ایسا ہونے کا امکان نہیں ہے۔
ایران نے روس کو بیلسٹک میزائل نہیں دیے،یوکرین
یوکرینی صدر کے سینئر مشیر نے کیف کی جانب سے ایران کے پر سنگین الزامات کے باوجود کہا کہ تہران نے ابھی تک روس کو بیلسٹک میزائل نہیں دیے اور مستقبل میں بھی ایسا ہونے کا امکان نہیں ہے۔

ایسے وقت میں کہ جب مغرب کی جانب سے روس کو ہتھیاروں کی فراہمی اور ترسیل کے حوالے سے ایران پر بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زلینسکی کے سینئر مشیر میخائیل پوڈولیاک نے گارڈین سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران نے روس کو بیلسٹک میزائل نہیں دیے اور ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ کرے۔

پوڈولیک نے اس کے باوجود ان دعووں کو دھرایا کہ یوکرین کی جنگ میں استعمال کے لیے ایران نے روس کو ڈرون فراہم کیے تھے تاہم یہ دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے ایرانی ڈرونز کی پہلی کھیپ تقریباً ختم کر لی ہے اور ان کے ہتھیاروں کے ذخیرے میں صرف روسی ساختہ کروز میزائل ہی موجود ہیں، جن سے یوکرین کے خلاف مزید "دو یا تین" بڑے حملے ہی کئے جاسکتے ہیں!

روس کی جانب سے ایرانی میزائل خریدنے کی پیشکش کے بارے میں دعووں کو دہراتے ہوئے پوڈولیاک نے تہران کے خلاف سخت سفارتی دباؤ کو اس معاہدے کی "ناکامی" کی قطعی وجہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ "یہ معاہدہ ابھی تک منظور اور حتمی نہیں ہوا ہے!

خیال رہے کہ تہران اور ماسکو نے ہمیشہ ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا ہے اور ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مغرب یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایسے بے بنیاد دعوے کرتا ہے۔

چنانچہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعے کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے روس کو ہتھیاروں کی فروخت یوکرین کی جنگ میں استعمال کیے جانے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الزامات کا مقصد کیف کے لئے مغرب کی فوجی امداد کو جواز فراہم کرنا ہے۔

واضح رہے کہ 24 فروری کو یوکرین میں روس کی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے امریکہ اور مغربی ممالک نے ماسکو کے خلاف وسیع پابندیاں عائد کیں اور کیف کو ہتھیار فراہم کیے ہیں جبکہ یہ سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔ دریں اثنا روس نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے جنگ کو طول ملے گا اور اس کے حتمی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
https://www.taghribnews.com/vdcd990knyt05f6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس