تاریخ شائع کریں2022 6 December گھنٹہ 17:02
خبر کا کوڈ : 576007

ہمیں میدان جنگ میں اپنی ضرورتوں کو محنت اور منظم کوششوں سے پورا کرنا تھا

 اسلامی انقلاب اور مقدس دفاع کے قومی میوزیم میں دفاع مقدس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مقام پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد باقری نے کانفرنس سے خطاب کیا۔
ہمیں میدان جنگ میں اپنی ضرورتوں کو محنت اور منظم کوششوں سے پورا کرنا تھا
ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف نے آٹھ سالہ دفاع مقدس کے زمانے میں ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں میدان جنگ میں اپنی ضرورتوں کو محنت اور منظم کوششوں سے پورا کرنا تھا جسے ہم نے پوری طاقت سے انجام دیا۔

 اسلامی انقلاب اور مقدس دفاع کے قومی میوزیم میں دفاع مقدس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مقام پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد باقری نے کانفرنس سے خطاب کیا۔

انہوں نے کانفرنس کے موضوع کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دفاع مقدس کے دوران مظلومیت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ سازوسامان کے حوالے سے ہم پر پابندی تھی اور ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی اور پرزہ جات کی تیاری کے میدان میں اپنی محنت اور لگن سے طاقت کا توازن پیدا کرنا تھا۔

جنرل باقری نے مزید کہا کہ اس دوران بعثی دشمن ﴿صدام حکومت﴾ انسانی وسائل کے حوالے سے اپنے ملکی وسائل کو پوری طرح استعمال کر رہا تھا۔ جنگ کے دوران ان کا ملک مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا اور اس کی انسانی وسائل کو ایرانی قوم کے خلاف محاذوں پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح بعثی حکومت کچھ کرائے کے فوجیوں کو استعمال کر رہی تھی جنہیں وہ دوسرے ممالک سے لڑنے کے لیے لائے تھے اور سازوسامان کے لحاظ سے اسے مشرقی اور مغربی بلاکس کی حمایت بھی حاصل تھی۔

ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہمیں میدان جنگ میں اپنی ضرورتوں کو محنت اور منظم کوششوں سے پورا کرنا تھا جسے ہم نے پوری طاقت سے انجام دیا اور آج اس کانفرنس میں ہمیں ان مسائل کو نوجوان نسل کے لئے بیان کرنا ہوگا۔

جنرل باقری نے کہا کہ ہماری فوج کو پرزہ جات کے حوالے سے کوئی لوجسٹیک امداد حاصل نہیں تھی اور ہمیشہ کہا جاتا تھا کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں اپنے جنگی طیاروں اور ہوائی بیڑے کو کس طرح فنکشنل باقی رکھا جاسکتا ہے جبکہ ایرانی مسلح افواج نے جنگ کے آغاز سے ہی یہ کام بخوبی انجام دیا۔ پزرہ جات کی دیکھ بھال کی، ان کی مرمت کی ذمہ دار اٹھائی اور ساز و سامان کو اپ گریڈ اور اپڈیٹ کرنے میں لگن سے کام کرتی رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن شروع سے ہی یہ پروپیگنڈا اور جھوٹ پھیلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایران کسی منصوبہ بندی اور تدبیر کے بغیر نوجوانوں کو محاذ جنگ میں روانہ کر رہا ہے اور اس کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہ تھا، یہاں تک کہ ایک بھی مثال ایسی نہیں ہے کہ جہاں کسی کمانڈر نے اپنے جوانوں کو اس انداز میں آگے بھیجا ہو۔ 

انہوں نے کہا کہ دفاع مقدس کے دوران ہم بظاہر بعثی رجیم کی افواج کے ساتھ لڑ رہے تھے جبکہ در حقیقت 35 سے زیادہ ملک اس کی حمایت کر رہے تھے اور انہیں دنیا کی جدید ترین ایجادات اور ساز و سامان فراہم کر رہے تھے۔

جنرل باقری نے کہا کہ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران اس وقت کے جدید ترین اور تحقیقی مراحل میں موجود ہتھیاروں کو ہم پر تجربہ کیا جاتا اور پھر وسیع پیمانے پر تیار جاتے رہے۔ اس حوالے سے میراج فائٹرز، ایکزوز میزائل، سوویت دور کے سوخو 24، سوخو 25 اور مگ 29 جنگجو طیارے، اینٹی ریڈار اور لیزر میزائل اور امریکی اور یورپی سیٹلائٹ تصاویر کا نام لیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں ہماری افواج پر جدید جرمن کیمیائی ہتھیاروں کا تجربہ کیا گیا۔ یہ جھوٹے مغرب والے جو آج انسانی حقوق کا دم بھرتے ہیں، ممنوعہ کیمیائی ہتھیار بنا کر صدام حسین کو دیتے رہے اور ہم پر آزماتے رہے تھے۔ یہ جاننا دلچسپ ہے کہ جس دن جنگ ختم ہوئی عراقی بعثی حکومت کے پاس 12000 پاؤنڈ کیمیائی بم تھے۔

جنرل باقری نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے مسلح افواج کی اسلحلہ سازی اور جنگی حکمت عملی تیار کرنے کے حوالے کوششوں کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں انجام دیئے جانے والے کارناموں کا ذکر کیا کہ کس طرح مختلف سائنسی اور عسکری علوم کو مہارت سے کام لایا گیا جس میں ملک کے تمام طبقوں کے ماہرین نے مسلح افواج کا ساتھ دیا، خاص طور پر یونیورسٹیز کے اساتید اور طالب علموں نے مسلح افواج کے شانہ بشانہ اپنے علم و ہنر اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ملک کے دفاع کے لئے وقف کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ دفاع مقدس کے دوران جہاں مختلف عسکری علوم اور سائنسی معلومات کو بروئے کار لا گیا وہیں بہت سے ہومن سائنسز جیسے کہ نفسیات، عمرانیات اور بشریات کو بھی بروئے کار لا گیا جس سے عراق کے لوگوں اور افواج کی صورتحال کو سمجھنے میں مدد لی گئی۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے آٹھ سالہ جنگ کے دوران سائنس و ٹکنالوجی کے استعمال کی مختلف مثالیں بھی دیں اور بتایا کہ کس طرح مختلف جنگی کاروائیوں اور آپریشنز میں ان کا استعمال کیا گیا۔
https://www.taghribnews.com/vdce7p8nfjh8f7i.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس