تاریخ شائع کریں2022 30 November گھنٹہ 23:22
خبر کا کوڈ : 575279

پاکستان کوعملی میدان میں مسئلہ فلسطین کےلئے اقدامات کو مزید تیز کرنا ہوگا

انہوں نے مزید کہاکہ کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا ، سب کچھ بدل گیا، مگر آج بھی فلسطینی ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں اور نام نہاد عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیںمگر عالمی ادارے انسانی حقوق کے نام پر اپنے مفادات کی خاطر اقدامات کرتے ہیں
پاکستان کوعملی میدان میں مسئلہ فلسطین کےلئے اقدامات کو مزید تیز کرنا ہوگا
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر کہاکہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، پلاننگ کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے غاصب ریاست کو توسیع دی جارہی ہے ،مذمتی قراردادیں وبیانات خوش آئند، عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں ،منظم و مضبوط پالیسی بنائے بغیر اسرائیل کے مظالم نہیں رُکیں گے اسرائیل فلسطین میں ظلم کی تمام حدیں پار کرچکاہے ۔

قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23 مارچ 1940ءکو قرارداد پاکستان کے ساتھ قرارداد فلسطین کی منظوری اور اس کے علاوہ بانی پاکستان کے 27اگست 1948ءکے بیان ”ہم یکساں طورپر خطرناک اور کٹھن دور سے گز رہے ہیں ہم اپنے اسلامی اتحاد کے ذریعے ہیں دنیا کے مشورہ خانوں میں اپنی آواز کی قوت محسوس کر اسکتے ہیں “کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کوعملی میدان میں مسئلہ فلسطین کےلئے اقدامات کو مزید تیز کرنا ہوگا ۔

انہوں نے مزید کہاکہ کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا ، سب کچھ بدل گیا، مگر آج بھی فلسطینی ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں اور نام نہاد عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیںمگر عالمی ادارے انسانی حقوق کے نام پر اپنے مفادات کی خاطر اقدامات کرتے ہیں مگر جن مظلوم خطوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہاں ظالموں ، آمروں اور جابروں کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم عالمی سامراج کی سرپرستی میں صیہونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ فسلطین فلسطینیوں کی اُمنگوں کے مطابق حل کیا جائے ۔مسلسل فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ تاحال جاری ہے ان کی بستیوں کو مسمار کرکے کھنڈرات میں تبدیل کردیاگیاہے، خواتین ، بچوں اور بزرگ شہریوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں یہ سب ایک پلاننگ کے تحت، ناجائز اسرائیلی ریاست کو دوام بخشنے کےلئے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی سطح پر منظم اور مضبوط موقف کےساتھ فلسطینی ریاست کی اصل حالت میں بحالی کےلئے مضبوط پالیسی مرتب نہیں کی جاتی اس وقت تک اسرائیل مزید خونخوار، ظالم اور فلسطینیوں پر اپنی ہی زمین تنگ کرکے ان پر مظالم کی سیاہ رات کو مزید طول دے گا اور درندگی کا مظاہرہ کر تا رہے گا۔
https://www.taghribnews.com/vdcefn8nojh8fwi.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس