تاریخ شائع کریں2022 29 November گھنٹہ 19:34
خبر کا کوڈ : 575115

ایران و عراق تعلقات کی جڑیں دونوں قوموں کی فکر اور عقائد سے ملی ہوئی ہیں

تقریب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ان کے دورہ ایران پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات عام تعلقات نہیں ہیں۔
ایران و عراق تعلقات کی جڑیں دونوں قوموں کی فکر اور عقائد سے ملی ہوئی ہیں
ایران کے صدر نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں ایران اور عراق کے مشترکہ نظریات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراقی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات ہمارے درمیان مسائل کے حل میں موثر ہیں۔

تقریب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ان کے دورہ ایران پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات عام تعلقات نہیں ہیں۔ ایران و عراق تعلقات کی جڑیں دونوں قوموں کی فکر اور عقائد سے ملی ہوئی ہیں جس نے دونوں قوموں اور دونوں حکومتوں کو اکٹھا کیا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران عراق تعلقات کے عروج کو اربعین کی رسومات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اربعین زائرین کی شاندار میزبانی پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ تہران اور بغداد ثقافتی، سیاسی، سماجی اور سیکورٹی کے شعبوں میں تعاون کرتے ہیں، امید ظاہر کی کہ نئی حکومت کے دوران ایران اور عراق کے درمیان تعاون میں مزید بہتری آئے گی۔

آیت اللہ رئیسی نے کہا کہ ایرانی اور عراقی حکومتیں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ خطے میں سلامتی، امن اور استحکام بہت اہم ہے۔ اسی لیے دہشت گرد گروہوں، منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں اور خطے کو خطرہ سے دوچار کرنے والے کسی بھی اقدام کے خلاف جنگ ان دونوں ملکوں کے مابین ہونے والے معاہدوں کا حصہ ہے اور دونوں کا مشترکہ عزم ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کی سلامتی، استحکام اور امن علاقائی ممالک کے ذریعے قائم ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کسی بھی طرح سے سلامتی پیدا نہیں کر سکتی۔ جس طرح افغانستان اور عراق میں امریکیوں کی موجودگی ہے۔ جس طرح افغانستان اور عراق میں امریکیوں کی موجودگی سے سلامتی پیدا نہیں ہوئی اسی طرح خطے کے دیگر حصوں میں بھی سلامتی پیدا نہیں ہوگی۔ لہٰذا، خطے سے ان کی روانگی یقینی طور پر علاقائی سلامتی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

رئیسی نے ایران میں عراق کے وزیراعظم کی موجودگی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی اور عراقی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات یقیناً تعلقات کی بہتری کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون کو بات چیت کے اہم موضوعات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی اور بینکنگ کے مسائل، بجلی اور گیس کی برآمدات گفت و شنید کے موضوعات میں شامل ہیں اور بلا شبہ یہ دورہ اور دونوں کے درمیان بات چیت ایرانی اور عراقی وفود اپنے درمیان مسائل کے حل کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔

صدر رئیسی نے عراقی وزیر اعظم کے دورہ تہران کو بھی دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کے لیے کارگر قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ السوڈانی اور ان کی حکومت دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی سمت میں بھرپور اقدامات کر سکتے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت آئین کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے اور عراقی سرزمین کو کسی ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔

السوڈانی نے مزید کہا کہ عراق کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اس دورے میں موجود ہیں اور وہ اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں گے تاکہ کسی بھی کشیدگی کو روکنے اور اس سے بچنے کے لیے ایک ورکنگ میکانزم اور تعاون تک پہنچ سکیں۔

عراق کے وزیر اعظم نے اپنے دورہ ایران کو دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق کے عوام اور حکومت داعش دہشت گردوں کے خلاف اسلامی جمہوریہ کی حمایت کو فراموش نہیں کریں گے۔

السودانی نے دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کے خلاف جنگ میں مشترکہ تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ بتاتے ہوئے کہ اقتصادی مسائل خطے کی سلامتی پر اہم اثر ڈالتے ہیں انہوں نے کہا کہ آج ہم نے دونوں ممالک کی اقتصادی کمیٹی کے اجلاسوں کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔
https://www.taghribnews.com/vdcdfk0kkyt05f6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس