تاریخ شائع کریں2022 27 September گھنٹہ 18:52
خبر کا کوڈ : 566908

شاہ خراسان امام علی رضا ؑ کا روز شہادت

فرزند رسول کی جانسوز شہادت کے اس موقع پر مشہد مقدس کے علاوہ ایران کے دیگر تمام شہریوں، قصبوں اور قریوں میں عزاداری کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے اور لوگ مجالس و جلوسہائے عزا کا اہتمام کر رہے ہیں۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر لوگ بڑی تعداد میں عزاداری کرتے ہوئے نکل آئے ہیں۔
شاہ خراسان امام علی رضا ؑ کا روز شہادت
فرزندرسولۖ، سلطان عرب و عجم حضرت امام علی بن موسی رضا علیہ السلام گیارہ ذی القعدہ ایک سو اڑتالیس ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں اس دنیا میں تشریف لائے اور صفر کے مہینے کی آخری تاریخ میں آپ کی شہادت واقع ہوئی ۔ امام رضا علیہ السلام کے علم کا اتنا شہرہ تھا کہ رضا کے ساتھ ساتھ آپ کو عالم آل محمد کے نام سے بھی شہرت حاصل تھی- آپ کا اسم گرامی علی اور کنیت ابوالحسن ہے۔

فرزند رسول حضرت امام علی بن موسی رضا علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پر آج پورا ایران سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ مشہد مقدس میں واقع بارگاہ امام رضا (ع) اس وقت عزاداروں اور سوگواروں سے لبریز ہے جو دسیوں لاکھ کی تعداد میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے۔ شہادت کی مناسبت کے پیش نظر غیر ملکیوں کی بڑی تعداد بھی مشہد مقدس پہنچ چکی ہے۔ بر صغیر ہندوستان و پاکستان، عراق، لبنان، آذربائیجان، افغانستان سمیت دنیا کے دسیوں ممالک سے دسیوں ہزار زائرین اس وقت مشہد مقدس میں موجود ہیں جو اپنے مولا و آقا، امام ثامن و ضامن، علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کا سوگ بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔

فرزند رسول کی جانسوز شہادت کے اس موقع پر مشہد مقدس کے علاوہ ایران کے دیگر تمام شہریوں، قصبوں اور قریوں میں عزاداری کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے اور لوگ مجالس و جلوسہائے عزا کا اہتمام کر رہے ہیں۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر لوگ بڑی تعداد میں عزاداری کرتے ہوئے نکل آئے ہیں۔

گزشتہ شب مشہد مقدس میں امام ہشتم کی شہادت کی مناسبت سے آپ کے روضۂ اقدس میں خطبہ خوانی کی قدیمی اور روایتی مجلس منعقد ہوئی جس میں روضۂ اقدس کے خادمین، اپنی خاص روایت کے مطابق ہاتھوں میں شمعیں لئے، صحن پیغمبر اعظم میں اکٹھا ہوئے اور ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ امامِ ضامن علیہ السلام کے فضائل و مصائب بیان کئے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق روضہ اقدس کے تمام صحنہائے مبارک، ساری رات زائرین اور عزاداروں سے لبریز رہے۔ روضۂ مبارک میں نماز صبح کے بعد عزاداری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور عزاداروں اور سوگواروں کے ماتمی دستوں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ حرمِ مبارک کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حرم مبارک کے قرب و جواب میں جہاں عزادای کرتے زائرین و مجاورین کا ہجوم نظر آ رہا ہے وہیں جابجا انکی خدمت و پذیرائی کے لئے موکب بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستانی مومنین کی جانب سے بھی ایک بڑا موکب گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی مشہد مقدس کے شہدا اسکوائر پر لگایا گیا ہے جو گزشتہ چند دنوں سے روزانہ ہزاروں زائرین کرام کو مختلف خدمات فراہم کر رہا ہے۔

ایران کے دیگر تمام شہروں، قصبوں دیہاتوں میں بھی عزاداری و سوگواری کا سلسلہ جاری ہے۔ دارالحکومت تہران، مقدس شہر قم اور شیراز میں واقع روضات عالیات بھی زوار اور عزاداروں سے لبریز ہیں۔ لوگ بی بی فاطمہ معصومہ (ع) اور حضرت احمد بن موسیٰ شاہچراغ (ع) کو انکے غریب الوطن بھائی کا پرسہ دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ معتبر روایات کی بنیاد پر فرزند رسول امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت سنہ ۲۰۳ ہجری آخرِ صفر میں واقع ہوئی۔ مامون عباسی نے زہر آلود انگور کے ذریعے مشہد کے سناباد علاقے میں امام کو شہید کر دیا تھا۔
http://www.taghribnews.com/vdcdz90kjyt09n6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس