تاریخ شائع کریں2022 9 August گھنٹہ 19:16
خبر کا کوڈ : 560868

طالبان وزیر: ثقافتی پابندیاں لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کی وجہ ہیں

طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر تعلیم نے ایک بیان میں کہا کہ اس گروپ کو لڑکیوں کی تعلیم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور صرف ثقافتی پابندیاں اسکولوں کی بندش کا سبب بنی ہیں۔
طالبان وزیر: ثقافتی پابندیاں لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کی وجہ ہیں
طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر تعلیم نور اللہ منیب نے لڑکیوں کے اسکول دوبارہ نہ کھولنے کی وجوہات بتائی ہیں۔ 

انہوں نے خوست میڈیا کو بتایا: "نگران حکومت کو لڑکیوں کی تعلیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اس شعبے میں واحد مسئلہ ثقافتی پابندیاں ہیں۔" 

طالبان کے وزیر تعلیم نے مزید کہا: "افغانستان کے کچھ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے حساسیت پائی جاتی ہے، اور اسکولوں کو دوبارہ کھولتے وقت اس بات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔"

یہ بیانات اس تناظر میں ہیں کہ افغانستان کی سابقہ ​​حکومت میں لڑکیوں کو ہر سطح پر تعلیم دی جا رہی تھی اور لوگوں کی مخالفت کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ 

دوسری جانب طالبان کے ایک سینئر رکن نے حال ہی میں کہا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول جلد دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔

اس حوالے سے طالبان کے ایک سینیئر رکن انس حقانی نے کہا: لڑکیوں کے اسکول ہمیشہ کے لیے بند ہونے والے نہیں ہیں اور ہم مستقبل قریب میں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

یہ الفاظ اس تناظر میں ہیں کہ حال ہی میں پاکستانی علماء کے ایک وفد نے کابل سے واپسی اور طالبان کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کے بعد اس امید کا اظہار کیا تھا کہ افغانستان میں جلد ہی لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھل جائیں گے۔ 

طالبان کی جانب سے لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکے ہوئے 300 دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اگرچہ اس فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، لیکن طالبان کا لڑکیوں کے اسکول بند کرنے کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے۔

طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا ہے اور کئی ماہ گزر جانے کے باوجود افغان لڑکیوں کے لیے اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

فارس کے مطابق افغانستان میں نگراں حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ لڑکیوں کے اسکول ایک نئے طریقہ کار اور طریقہ کار کے ساتھ دوبارہ کھولے جائیں گے لیکن 11 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس ملک میں لڑکیوں کے اسکول جانے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdccexqp42bqe48.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس