تاریخ شائع کریں2022 28 June گھنٹہ 19:46
خبر کا کوڈ : 555396

پاکستان کی سیکورٹی کو ایران کی سلامتی سمجھتے ہیں

یہ بات جنرل حسین سلامی نے آج بروز منگل ایک اعلی سطحی وفد کی قیادت میں ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی جنرل رضا ندیم کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی۔
پاکستان کی سیکورٹی کو ایران کی سلامتی سمجھتے ہیں
 ایرانی سپاہ پاسداران کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کی سیکورٹی کو ایران کی سلامتی سمجھتے ہیں۔

یہ بات جنرل حسین سلامی نے آج بروز منگل ایک اعلی سطحی وفد کی قیادت میں ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی جنرل رضا ندیم کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی۔

 انہوں نے پاکستان کی سلامتی کو ایران کی سلامتی کے مترادف قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں خاص طور پر مشترکہ سرحدوں کی سیکورٹی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شعبے میں باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستانی وفد کی خوش آمدید کہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی مشترکات کا حوالہ دیا۔

جنرل سلامی نے کہا کہ ہم دو مسلم قوم اور ملک ہیں جن کو ایک مشترکہ خدا، پیغامبر اور آسمانی کتاب ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان ایک پرانی ثقافت ہے جو دونوں قوموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم ان مشترکات کے سوا امت مسلمہ کے رکن کی حیثیت سے ہمارے مشترکہ دشمن ہیں۔

جنرل سلامی نے غاصب صیہونی حکومت کو عالم اسلام اور انسانیت کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ جو اسرائیل کا اصل حامی ہے، اسلام کا بنیادی دشمن بھی ہے۔

انہوں نے بچوں کو قتل کرنے والی حکومت 'صہیونی' کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے نتیجے کو بعض خطی ممالک کے لیے تلخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی ناجائز حکومت سیاست سے عاری حکومت ہے اور اپنے دفاع سے قاصر ہے تو کیسے بعض ممالک اس رجیم پر بھروسا کر سکتے ہیں یہ ایک غیر منطقی بات ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلامی دنیا میں امریکی موجودگی کا نتیجہ تنازعات، طویل خانہ جنگی، گھروں کی تباہی، لوگوں کا بے گھر ہونا، مسلم اقوام کو اپنی دولت سے محروم کرنا، عدم تحفظ، غربت اور پسماندگی ہے اور ہم امریکہ کی اس مداخلت کے آثار کو افغانستان میں دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ برسوں میں پاکستانی فوج کے عزیز کمانڈروں کے ساتھ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے کہا کہ اس ملاقاتون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہمارے پاکستانی فوج کے ساتھ اچھے اور برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم اسے نقصان پہنچانے والی ہر چیز سے مقابلہ کریں گے۔

اس ملاقات میں جنرل ندیم رضا نے دونوں قوموں اور ممالک کے درمیان بہت مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام میں تفرقہ امریکی اور مغربی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ بیس سال بعد بغیر سیکورٹی کے افغانستان سے چلے گئے اور ان کی موجودگی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
جنرل ندیم رضا نے مشترکہ سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے انٹیلی جنس اور مشترکہ مشقوں  کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
http://www.taghribnews.com/vdccopqpe2bqp18.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس