تاریخ شائع کریں2022 23 May گھنٹہ 13:42
خبر کا کوڈ : 550673

سید ابراہیم رئیسی آج پیر کے روز ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ عمان کے دورے پر روانہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے سلطنت عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کی باضابطہ دعوت پر آج پیر کے روز  ایک اعلی سطحی وفد کی قیادت میں اس ملک کے دارلحکومت مسقط کا دورہ کیا۔
سید ابراہیم رئیسی آج پیر کے روز ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ عمان کے دورے پر روانہ
ایرانی صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی آج پیر کے روز ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ عمان کے دورے پر روانہ ہوگئے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے سلطنت عمان کے سلطان ہیثم بن طارق آل سعید کی باضابطہ دعوت پر آج پیر کے روز  ایک اعلی سطحی وفد کی قیادت میں اس ملک کے دارلحکومت مسقط کا دورہ کیا۔

العلم کے محل میں ایک باضابطہ ملاقات، عمان کے سلطان کے ساتھ دو طرفہ ملاقات، متعدد تعاون کی دستاویزات پر دستخط، مقیم ایرانیوں سے ملاقات اور عمانی تاجروں اور اقتصادی کارکنوں سے ملاقات ایرانی صدر کے دورے عمان کے منصوبے میں شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی صدرسید ابراہیم رئیسی کا عمان کا دورہ  پانچواں غیر ملکی دورہ ہے ۔ایرانی صدر عمان کے دورے سے قبل تاجیکستان، ترکمنستان، روس اور قطر کا دورہ کر چکے ہیں، عمان پانچواں ملک ہے۔

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی پیر کی صبح مسقط روانگی سے قبل مہرآباد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمان کا دورہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کو فروغ دینے کا ایک قدم ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ دورے جاری رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ایران اور عمان کے تجارتی تعلقات یقینی طور پر بہتر ہوں گے۔

رئیسی نے ہمارے اور عمان کے درمیان اچھے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوست ملک، برادر اور پڑوسی 'عمان' کے ساتھ ہمارے سیاسی اور اقتصادی تعلقات اچھے ہیں۔' لیکن تعلقات کی یہ سطح دونوں ممالک کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

صدر رئیسی نے کہاکہ اس سفر میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف انتظامی اداروں کے تعاون سے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ٹرانسپورٹیشن، توانائی، سیاحت، خاص طور پر صحت کی سیاحت کے شعبوں میں تعلقات کے فروغ کیلیے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ عمان کا دورہ ہمسائیگی کی پالیسی کی ترقی کے مطابق ہے، یہ دورہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون اور بات چیت سلامتی کے فروغ کا باعث ہوسکتی ہے اور غیر ملکی افواج کی موجودگی نہ صرف سلامتی فراہم  نہیں کرتی ہے بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcfexdtmw6dtva.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس