تاریخ شائع کریں2022 21 January گھنٹہ 13:32
خبر کا کوڈ : 535332

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی دورہ روس سے واپسی پر ائیرپورٹ میں صحافیوں سے گفتگو

صدر رئیسی نے کہا کہ دورہ روس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جامع، مستحکم اور فائدہ مند تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ایک بنیادی معاہدہ طے پایا اور بلاشبہ، روس کیساتھ تعلقات کی ترقی دونوں ممالک کی سلامتی اور بہبود میں معاون ثابت ہوگی۔
آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی دورہ روس سے واپسی پر ائیرپورٹ میں صحافیوں سے گفتگو
 اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے مختلف اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں تعلقات کی توسیع کے حوالے سے روسی حکام کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں سے متعلق وضاحتیں پیش کیں۔

رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے جمعہ کی علی الصبح کو اپنے دور روزہ دورہ روس کی وطن واپسی کے موقع پر مہرآباد ائیرپورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس دورے سے حاصل ہونے کامیابیوں کی وضاحتیں پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ  اس سفر میں جو مسائل اٹھائے گئے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کے اہم مقاصد؛ یعنی دنیا کے تمام ممالک بالخصوص پڑوسی ممالک اور ایران کےاتحادیوں کیساتھ زیادہ سے زیادہ تعامل کے سلسلے میں تھے۔

صدر رئیسی نے کہا کہ دورہ روس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جامع، مستحکم اور فائدہ مند تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ایک بنیادی معاہدہ طے پایا اور بلاشبہ، روس کیساتھ تعلقات کی ترقی دونوں ممالک کی سلامتی اور بہبود میں معاون ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان دوطرفہ تعاون کی توسیع یقینی طور پر خطے اور بین الاقوامی میدان میں قیام سلامتی کی فراہم کرے گی۔

 آیت اللہ رئیسی نے کہا کہ اس سفر کے دوران، ہم نے دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی اور بینکنگ کے معاملات پر بھی بات کی اور دونوں ممالک مالیاتی اور بینکنگ تعلقات میں ڈالر کے غلبے کو شکست دینے کے لیے اقدامات اٹھا سکتے ہیں اور قومی کرنسی سے تجارتی لین دین کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی  وزیر تیل  کے روسی توانائی حکام کے ساتھ تیل اور گیس کے شعبوں کی ترقی کے حوالے سے بھی اچھے معاہدے تھے۔

صدر رئیسی نے کہا کہ  تجارتی امور کے میدان میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق کیا گیا؛ فی الحال، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی سطح قابل قبول نہیں ہے، لہذا دونوں ممالک نے پہلے مرحلے میں باہمی تجارت کو سالانہ 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران او روس نے زرعی اشیا کے تبادلے کو بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کی زرعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ زرعی اشیا کے تبادلے کے موزوں ماحول کی نشاندہی پر بھی اتفاق کیا۔

صدر رئیسی نے کہا کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ٹرانزٹ اور نقل و حمل کے میدان میں بہت اچھی صلاحیتیں ہیں۔ اس سفر کے دوران، شمال-جنوب کوریڈور کو فعال کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس ٹرانزٹ روٹ سے روس اور ایران کے مختلف شمالی ممالک سے جنوبی علاقوں تک سامان کی ترسیل کا کم سے کم وقت میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دوہ روس کے موقع پر دفاع، ایرو اسپیس اور خلائی تعاون کی توسیع پر بھی اچھی بات چیت ہوئی اور یہ طے پایا کہ وزارت خارجہ اور وزیر تیل مشترکہ اقتصادی کمیشن کے ایرانی فریق کی حیثیت سے قراردادوں پر عمل درآمد کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا نفاذ کریں۔

صدر رئیسی نے کہا کہ  خارجہ پالیسی کے میدان میں سب سے پہلا نکتہ جو اٹھایا گیا وہ بیرونی تبدیلیوں سے متعلق دونوں ممالک کا مشترکہ موقف اور ادارک تھا؛ یہ مشترکہ موقف ایران اور روس کے درمیان تعلقات بڑھانے کا باعث ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور روس کے درمیان تعاون علاقائی بحرانوں اور بین الاقوامی مسائل کے حل اور سلامتی، استحکام، امن اور انصاف کو فروغ دینے میں مدد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایران اور روس کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شام میں سلامتی کو برقرار رکھنے میں اچھے تعاون کے تجربے کو دیگر شعبوں میں دہرایا جا سکتا ہے، جن میں قفقاز کا علاقہ اور دونوں فریقوں کی طرف سے متفق ہونے والے دیگر شعبوں میں بھی شامل ہے۔

 صدر رئیسی نے کہا کہ آج ایک آزاد اور طاقتور ملک کے طور پر خطے میں اسلامی ایران کی موجودگی سیکورٹی کی موجودگی ہے اور ہمسایہ ممالک نے گواہی دی ہے کہ ایران جہاں بھی موجود رہا ہے، اس نے غیر ملکیوں کی موجودگی اور مداخلت کے برعکس سیکورٹی فراہم کی ہے جس نے علاقے میں قیام سلامتی کو برقرار رکھا ہے۔

ایرانی صدر نے نے امید ظاہر کی کہ روس کے صدر کے ساتھ ان کی تین گھنٹے کی ملاقات میں اٹھائے گئے مسائل کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ  قتصادی امور اور خزانہ کے وزراء، پیٹرولیم کے وزیر اور وزیر خارجہ نے بھی دورے کے دوران مختلف ملاقاتیں کیں اور روسی فریق کے ساتھ اچھے معاہدے طے پائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ دورہ روس کے دوست اور پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گا اور تعلقات کے اس سیٹ سے خطے میں سلامتی کی سطح کو بہتر بنانے اور علاقائی اور عالمی بحرانوں کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے روس کے دورے کے دوران، اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کے علاوہ روس میں مقیم ایرانیوں، روسی اقتصادی کارکنوں اور تاجروں اور روس کی مسلم کونسل کے چیئرمین سے بھی ملاقات کی۔

نیز ایرانی صدر نے روسی ڈوما کے اراکین اور اکیڈمک کونسل کے اراکین، ماسکو نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسرز اور طلباء سے بھی خطاب کیا اور انہیں ماسکو کی نیشنل یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر رئیسی نے اپنے دورہ روس کے اختتام پر ماسکو گرینڈ مسجد میں حاضری دی اور نماز کی ادائیگی کے بعد اجتماع سے خطاب کیا۔
http://www.taghribnews.com/vdcaemnmu49nee1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس