تاریخ شائع کریں2021 28 November گھنٹہ 12:17
خبر کا کوڈ : 528527

یورپی یونین طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گا

 یورپی یونین کے کمیشن کے صدر کا بیان ایسے میں سانے آیا ہے کہ جب سنیچر کے روز سے قطر کے شہر دوحہ میں طالبان، امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
یورپی یونین طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گا
یورپی یونین نے کہا ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے:۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے کمیشن کے صدر اورسولا فون درلین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں سماجی اور اقتصادی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جانی چاہئیے اور افغانستان میں طاقت کے بل پر بننے والی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

 یورپی یونین کے کمیشن کے صدر کا بیان ایسے میں سانے آیا ہے کہ جب سنیچر کے روز سے قطر کے شہر دوحہ میں طالبان، امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں افغانستان کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

اس عالمی ادارے کی رپورٹ میں بیرونی امداد کی معطلی، حکومت افغانستان کے سرمایوں کے منجمد ہونے نیز طالبان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں نے ملک کو غربت و افلاس کی انتہا پر پہنچا دیا ہے اور افغانستان ایک شدید معاشی بحران میں داخل ہوتا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی اداروں پر افغانستان کے خلاف پابندیاں کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو انسانی المیہ کا سامنا ہے اور افغانستان کے موجودہ بحران کے پیش نظر اس ملک میں کئی ملین افراد کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو کروڑ اٹھائیس لاکھ افغان شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے جو افغانستان کی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور دس لاکھ افغان بچےغذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے ہر ماہ بیس کروڑ  ڈالر کی انسان دوستانہ مدد درکار ہے۔

اس سے قبل طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی ایک خط میں امریکی کانگرس پر زور دیا تھا کہ وہ افغان عوام کے اثاثوں کو آزاد کرے، جبکہ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ مغربی ممالک افغانستان میں جان بوجھ کر اقتصادی بحران پیدا کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو افغانستان کا کنٹرول سنبھالا اور 7 ستمبر کو عبوری حکومت تشکیل دی۔
http://www.taghribnews.com/vdcirvawyt1arw2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس