تاریخ شائع کریں2021 24 October گھنٹہ 14:38
خبر کا کوڈ : 524125

وحدت اسلامی کانفرنس کے مندوبین اور اسلامی نظام کے عہدیداروں سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

پیغمبر کی ولادت کے واقعے کی عظمت خود پیغمبر کے مرتبے کی رفعت کے مساوی ہے۔ ایسا عظیم مرتبہ کہ عالم خلقت کے آغاز سے آخر تک اللہ تعالی نے اس مرتبے کی کوئی مخلوق پیدا نہیں کی اور اتنی عظیم امانت کسی کے دوش پر نہیں رکھی جو آنحضرت کو عطا فرمائی۔
وحدت اسلامی کانفرنس کے مندوبین اور اسلامی نظام کے عہدیداروں سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
پیغمبر اکرم کی ولادت انسان کی زندگی میں ایک نئے دور کا سرآغاز ہے۔ یہ بشارت ہے کہ ارادہ خداوندی اور بشریت پر فضل پروردگار کا نیا باب وا ہوا ہے۔

پیغمبر کی ولادت کے واقعے کی عظمت خود پیغمبر کے مرتبے کی رفعت کے مساوی ہے۔ ایسا عظیم مرتبہ کہ عالم خلقت کے آغاز سے آخر تک اللہ تعالی نے اس مرتبے کی کوئی مخلوق پیدا نہیں کی اور اتنی عظیم امانت کسی کے دوش پر نہیں رکھی جو آنحضرت کو عطا فرمائی۔

اللہ تعالی نے پیغمبر کے قلب مبارک پر 'کتاب مکنون' نازل فرمائی، آپ کی زبان مبارک سے اسے جاری فرمایا، بشریت کی خوش بختی کا مکمل دستور العمل آپ کے سپرد کیا اور حضرت کو مامور فرمایا کہ خود بھی اس پر عمل کریں، دوسروں تک پہنچائیں اور اپنے پیروکاروں سے تعمیل کا مطالبہ بھی کریں۔

اس دین کی فعالیت کا دائرہ بشریت کے تمام شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہے، انسان کے دل کی گہرائیوں سے لیکر سماجی، سیاسی، بین الاقوامی مسائل اور بشریت کے تمام امور سے اس کی نسبت ہے۔

قرآن جس اسلام کا تعارف کراتا ہے وہ ایسا اسلام ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں سے ربط رکھتا ہے، ان کے بارے میں اپنی رائے، نظر اور احکامات رکھتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اسلام کسی شکل میں سماجی نظام کا تو مطالبہ کرے لیکن دین و دنیا کی سربراہی و حاکمیت کے مسئلے کو واضح نہ کرے۔

ہر دور میں مومنین کا یہ فریضہ ہے کہ غور کریں کہ وہ کن حالات میں ہیں، دین کا ان سے کیا تقاضا ہے اور دین انھیں کیا ذمہ داری دے رہا ہے۔ جو لازمی ہے اس کے بارے میں سوچیں اور جو ضروری ہے اسے انجام دیں۔

اسلام ایک جامع دین ہے، اس جامعیت کا حق ادا کرنا چاہئے۔ مادہ پرست سیاسی طاقتیں بضد ہیں کہ اسلام کو ذاتی عمل اور قلبی اعتقاد تک محدود کر دیں۔ قرآن سیکڑوں آیتوں میں اس کی تردید کرتا ہے۔ اسلام کی فعالیت کا دائرہ تمام سماجی، سیاسی اور بین الاقوامی مسائل پر محیط ہے۔

اتحاد بین المسلمین مسلمہ قرآنی فریضہ ہے۔ مسلمانوں کا اتحاد ٹیکٹکل مسئلہ نہیں کہ کوئی سوچے کہ خاص حالات کے باعث ہم متحد ہو جائیں، نہیں! یہ ایک اصولی چیز ہے۔ مسلمانوں میں امداد باہمی ضروری ہے۔ مسلمان متحد رہیں تو ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور سب طاقتور بنیں گے۔

وحدت اسلامی کا پیمانہ مسئلہ فلسطین ہے۔ اگر مسلمانوں میں اتحاد قائم ہو جائے تو مسئلہ فلسطین یقینا بہترین شکل میں حل ہو جائے گا۔ بعض اسلامی حکومتوں نے غاصب و ظالم صیہونی حکومت سے روابط قائم کرکے بہت بڑا گناہ کیا، انھیں واپس لوٹنا چاہئے اور اس کی بھرپائی کرنا چاہئے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcir5awwt1arz2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس