تاریخ شائع کریں2021 21 October گھنٹہ 13:11
خبر کا کوڈ : 523628

دنیائے اسلام کی مصلحتیں اور امنیت ہمارے لئے مہم ہونی چاہئے

انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ واریت ایک  جان  لیوا درد ہے اگر یہ پوری طرح پھیل جائے تو ناقابل علاج ہوجاتا ہے۔ امت اسلامی کو فرقہ واریت اور جدائی کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے اور  منافقت کو ترک کردینا چاہئے۔
دنیائے اسلام کی مصلحتیں اور امنیت ہمارے لئے مہم ہونی چاہئے
استان مرکزی کے نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے ۳۵ ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے ویبناری سلسلہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا
فرقہ واریت دنیائے اسلام کے لئے سب سے بڑی آفت ہے ۔ دنیائے اسلام کی مصلحتیں اور امنیت ہمارے لئے مہم ہونی چاہئے۔

اخبار تقریب، حوزہ اندیشہ کے نیوز رپورٹر کے مطابق، استان مرکزی کے نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے ۳۵ ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے ویبناری سلسلہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدا ہمیں توفیق عنایت کرے کہ ہم وحدت اسلامی کی راہ میں زیادہ سے زیادہ کام کریں  تاکہ ملت اسلام متحد ہو اور بین المذاہب رواداری اور ہم آہنگی کی فضا قائم ہو۔

آیت اللہ قربان علی دری نے مزید کہا: ۲۰ویں صدی عیسوی میں دنیا طرح طرح کے حادثات سے خستہ حال تھی جن میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم  کے ساتھ اواخر صدی میں افغانستان کشمیر فلسطین شام عراق لبنان وغیرہ کے حالات بھی شامل ہیں۔ لیکن انہی تمام صعوبتوں کے ساتھ ہم اسلامی بیداری کا مشاہدہ کرتے ہیں اور نوجوانوں اور دینداروں کو عالمی استکبار اور اسرائیل سے ٹکراتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

آیت اللہ دری نجف آبادی نے کہا کہ اکیسویں صدی اسلامی بیداری کی صدی ہے جس میں معنویت ، عدالت کی تلاش، تعقل اور تفکر حبل اللہ کو تھامنے جیسے الہی مفاہیم موجزن ہیں۔ ہمیں اس صدی کو جہاد، فضیلت، ایمان، تقویٰ، معرفت، جاں نثاری اور ترقی کی صدی سمجھنا چاہئے۔
ْ
انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ واریت ایک  جان  لیوا درد ہے اگر یہ پوری طرح پھیل جائے تو ناقابل علاج ہوجاتا ہے۔ امت اسلامی کو فرقہ واریت اور جدائی کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے اور  منافقت کو ترک کردینا چاہئے۔

انہوں نے اسرائیل  عالمی استکبار کو امت مسلمہ کے لئے دوسرا بڑا خطرہ گردانتے ہوئے ان کے حیلوں اور ان کی چالوں کو سمجھنے کی تاکید کی تاکہ مسلم امہ ان کی سازشوں کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے علمائے اسلام سے تقاضا کیا کہ وہ فساد بے بند و باری، اخلاقی گراوٹ، خاندانوں کی تباہی کے اسباب  کے خلاف ڈٹ جائیں تاکہ  گھرانے جو معاشرہ کی اکائیاں ہیں محفوظ ہوں۔

انہوں نے اپنے بیان کے تسلسل میں آیت اللہ تسخیری کے کام اور ان کی کاوشوں کو سراہا اور ان کو علما کے لئے نمونہ قرار دیا کہ آخر عمر میں اپنی بیماریوں اور ناتوانی کے باوجود بھی اسلام، اہل بیت علیہم السلام اور قرآن کی راہ پر گامزن رہے اور امت اسلامی کی وحدت کے لئے کوشاں رہے۔

انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں یہ دعا کی کہ خدا وند متعال ہمیں توفیق عنایت کرے کہ ہم صداقت اور امانت داری کے ساتھ امت اسلام، پیامبر اسلامﷺ، اور اہل بیت پیمبر گرامی علیہم السلام کی خدمت کریں اور وحدت و عظمت امت اسلام کے لئے کوشاں رہیں۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcf0mdtcw6d0va.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس