تاریخ شائع کریں2021 20 October گھنٹہ 15:22
خبر کا کوڈ : 523454

وحدت سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں جھگڑا اور فساد نہ ہو

انہوں نے مزید کہا: وحدت کا مطلب یہ نہیں ہے جو جس عقیدہ پر ہے اس کو چھوڑ دے اور سب ایک عقیدہ پر عمل کرنے لگیں بلکہ وحدت سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں جھگڑا اور فساد نہ ہو، مسلمان ایک دوسرے سے جنگ کے بجائے باہمی امن و صلح  کے ساتھ زندگی گذاریں۔
وحدت سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں جھگڑا اور فساد نہ ہو
مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کی سابق سربراہ آیت اللہ محسن اراکی نے ۳۵ویں وحدت کانفرنس میں کہا:رسول اللہ ﷺ کا معیت اختیار کر نا اہم ترین واجب شرعی  اور امت اسلامیہ کی تشکیل کی بنیاد ہے۔

اخبار تقریب، حوزہ اندیشہ کے نیوز رپورٹرکے مطابق، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی  کے سابق سربراہ آیت اللہ محسن اراکی نے  ۳۵ویں وحدت اسلامی کانفرنس میں اپنے خطاب میں بین المذاہب ہم آہنگی کو دنیائے اسلام کی وحدت کا مقدمہ قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا: وحدت کا مطلب یہ نہیں ہے جو جس عقیدہ پر ہے اس کو چھوڑ دے اور سب ایک عقیدہ پر عمل کرنے لگیں بلکہ وحدت سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں جھگڑا اور فساد نہ ہو، مسلمان ایک دوسرے سے جنگ کے بجائے باہمی امن و صلح  کے ساتھ زندگی گذاریں۔

آیت اللہ اراکی نے کہا: قرآن و سنت پیمبرﷺ سے جوبات سمجھ آتی ہے وہ یہی ہے  رسول اکرمﷺ کے ساتھ ہونا اور من الرسول ﷺ ہونا اسلامی شریعت کے اہم وجبات میں سے ہے۔ امت اسلامیہ کا قیام بھی اسی معیت رسولﷺ سے وابستہ ہے۔

آیت اللہ اراکی نے یہ بھی کہا کہ ظالم اور ستمگر در اصل وہی ہیں جو رسول اکرمﷺ  سے جدا ہوگئے ہیں۔ انسانیت پر پر ظلم اسی وجہ سے روا ہے کہ رسول اکرمﷺ کو چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کے راستے کی پیروی نہیں کی جارہی۔

آیت اللہ اراکی نے یہ بھی صراحت فرمائی کہ نفس پر ظلم رسول اللہﷺ سے جدا ہوناہے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہونے کا مطلب ان کی اتباع اور اطاعت ہے۔ انہوں نے آخر میں تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا کہ خدارا رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ہو جائیے اور ان کی پیروی کیجئے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdccp1qp02bqi08.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس