تاریخ شائع کریں2021 20 October گھنٹہ 15:18
خبر کا کوڈ : 523451

اسرائیل کا مقصد مسجد اقصی اور ہیکل سلیمانی کی نابودی اور بربادی

انہوں نے آپریشن سیف القدس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں اسرائیلیوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اس آپریشن میں متعدد اسرائیلیوں کو گرفتار کیا گیا جس کے بعد اسرائیل کو ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو رہا کرنا پڑا۔
اسرائیل کا مقصد مسجد اقصی اور ہیکل سلیمانی کی نابودی اور بربادی
فلسطین آزادی تحریک کے سینئیر رکن ، اسماعیل رضوان نے ۳۵ویں اسلامی وحدت کانفرنس میں  کہا:اسرائیل کے ساتھ اتحاد اور ہم آہنگی در اصل فلسطینی قوم کے پشت میں خنجر بھونک دینے کے مترادف ہے۔

اخبار تقریب، حوزہ اندیشہ کے نیوز رپورٹر کے مطابق فلسطین کی تحریک آزادی  حماس کے سینیئر رکن ، اسماعیل رضوان نے ۳۵ویں اسلامی وحدت کانفرنس کے  پہلے روز اپنے بیان میں اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی، توافق اور تفاہم کو  فلسطینی قوم کے ساتھ خیانت قرار دیا اور امت اسلام کو رسول اکرمﷺ کے فرامین کے ضمن میں ایک واحد پیکر قرار دیا اور مسلمانوں کو قرآن کی رو سے تفرقہ اور جھگڑے سے منع کیا۔ 

حماس کے راہنما و رکن نے دور حاضر کو فلسطین کے لئے خطرناک ترین دور قرار دیا اور  کہا کہ اسرائیل اس کوشش میں ہے امریکہ کی حمایت اور بعض ممالک کی ہم آہنگی سے  مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھین لے۔ ان کا اصل ہدف مسجد اقصی اور ہیکل سلیمانی کی نابودی اور بربادی ہے۔

انہوں نے قبلہ اول کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہی وہ مقام ہے جہاں سے پیمبر اکرمﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے اور احادیث میں بھی مسجد الاقصی کی اہمیت نقل ہوئی ہے جس کی رو سے مسجد اقصی اور بیت مقدس صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام مسلم امت کا مسئلہ ہے۔

حماس کے سینئیر رکن اسماعیل رضوان نے یہ بھی کہا: اگر آج اسرائیل پورے فلسطین پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ صرف یہیں تک محدود رہے گا بلکہ اس کی تباہی فلسطین کی حدود سے نکل کر تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔ 

انہوں نے آپریشن سیف القدس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں اسرائیلیوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اس آپریشن میں متعدد اسرائیلیوں کو گرفتار کیا گیا جس کے بعد اسرائیل کو ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو رہا کرنا پڑا۔

اسماعیل رضوان نے تمام علما اور ملت اسلامیہ سے یہ تقاضا کیا کہ فلسطین کی مدد اور آزادی کے لئے سب جوانوں کو ترغیب دیں اور تیار کریں اور یہ کام وحدت کے ذریعے اور فرقہ واریت کو کنارے لگانے سے ہی ممکن ہوگا۔

رضوان نے اپنے بیان کے  اختتام پر  فلسطینی اسیروں کی رہائی کی لئے بین الاقوامی سطح پر  تحریک چلانے کا تقاضا کرتے ہوئے  مستقبل کو مسلمانوں اور مظلوموں  کی سلطنت قرار دیا
 
http://www.taghribnews.com/vdcjiteivuqe8xz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس