تاریخ شائع کریں2021 17 October گھنٹہ 18:00
خبر کا کوڈ : 523002

داعش جیسے وحشی درندے زینبیون کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں

ان جوانوں نے بی بی سیدہ زینب سلام الله عليها کے حرم کیلئے سر کٹوا دیئے، مگر حرم پر آنچ نہ آنے دی۔ اگر یہ جوان شام و عراق میں داعش کے خلاف جنگ نہ کرتے تو آج ان کا مقابلہ کوئٹہ، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ہو رہا ہوتا۔
داعش جیسے وحشی درندے زینبیون کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں
تحریر: شاہد عباس ہادی

ظلم و جور کو ختم نہیں کیا جاسکتا، جب تک دفاعی صلاحیت نہ ہو، دفاعی صلاحیت کا محور و مرکز مقاومتی جوان ہوتے ہیں۔ مقاومت ہی کے ذریعے عالمی صیہونی طاقتوں کو شکست فاش دی جاسکتی ہے۔ یہ طاقتیں عالم اسلام کو تباہ کر دینا چاہتی ہیں، یہ ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کے آقا یہودی ہوں، یہ طاقتیں جب تک اپنا راج قائم نہیں کر لیتیں، اس وقت تک خون بہاتی رہیں گی، جس کیلئے داعش جیسی خونخوار تنظیم ان کا خطرناک ہتھیار رہا ہے۔ داعشی لشکر نے کروڑوں بےگناہ مسلمانوں کا خون بہایا ہے۔ اسرائیل، امریکہ، سعودی وہابیت و تکفیریت اور نام نہاد عرب حکمرانوں نے داعش کی دل کھول کر مدد کی اور اس خونخوار لشکر کو بطور عالمی ہتھیار چن لیا، تاکہ عالم اسلام میں بسنے والی انسانیت کو ذبح کیا جاسکے اور ایک شیطانی یہودی ریاست قائم ہوسکے۔

انہوں نے شام و عراق کا میدان چنا اور پوری طاقت سے حملہ کیا، مگر دنیا نے دیکھا کہ شام میں داعش کو کیسے شکست ہوئی، کس طرح سے مقابلہ ہوا اور کس طرح ہمارے جوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر حرم کا دفاع کیا۔ 8 سال قبل جب دنیائے اسلام میں گونج اٹھی کہ تکفیری دہشتگرد اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ شام و عراق میں حملہ آور ہوگئے ہیں اور صحابہ کرام کی قبروں کو مسمار کرچکے ہیں اور اب اعلان کرچکے ہیں کہ روضہ مقدسہ سیدہ زینب سلام الله عليها کو گرا کر شام و عراق پر قابض ہو جائیں گے تو اس وقت پاکستان کے بہادر و وفادار بیٹوں نے حریت و حمیت کا ثبوت دیا اور داعش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ شام و عراق میں داعش جیسے خونخوار لشکروں کو نابود کیا۔

آج بھی داعش جیسے وحشی درندے زینبیون کے نام سے کانپ اٹھتے ہیں، یہ ایسے جوان تھے، جنہوں نے پاکستان میں اسلامی مقاومت کا تعارف کروایا، انہیں اپنی جان کی پرواہ نہیں تھی، اگر کوئی فکر و پریشانی تھی تو الہیٰ و محمدی دین کی فکر تھی، ان جوانوں نے بی بی سیدہ زینب سلام الله عليها کے حرم کیلئے سر کٹوا دیئے، مگر حرم پر آنچ نہ آنے دی۔ اگر یہ جوان شام و عراق میں داعش کے خلاف جنگ نہ کرتے تو آج ان کا مقابلہ کوئٹہ، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ہو رہا ہوتا۔ اب ایک بار پھر اس خونی لشکر نے افغانستان میں پنجے گاڑ لئے ہیں اور دھماکوں سے خونی کھیل شروع کر دیا ہے، جس سے ناصرف افغانستان کا امن تباہ و برباد ہوگا بلکہ بعید نہیں ہے کہ یہ لشکر پاکستان پر حملہ آور ہو کر وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ اگر پاکستان اور عالم اسلام کی حفاظت مقصود ہے تو داعش جیسے وحشی لشکروں کا سدباب ضروری ہے۔

یاد رکھیں اگر ان وحشیوں کے خلاف قیام نہیں کریں گے تو یہ لشکر تمہیں غلامی اختیار کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ ان درندوں کا واحد حل صرف اور صرف مقاومت و مزاحمت ہے، ان کا حل وہ جوان ہیں، جو اسلامی مقاومت کے پرچم کو تھامے ہوئے ہیں، جنہوں نے عراق و شام میں داعش کو شکست سے دوچار کیا۔ داعش جیسے درندوں کا حل زینبیون اور حزب الله  کے جوان ہیں، جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر داعش کو نابود کیا۔ یہ جوان عالم اسلام اور عرب دنیا میں پاکستان کا ناز ہیں، پاکستان کا فخر ہیں، یہ جناح و اقبال کے نظریاتی مملکت کے غیرت مند فرزند ہیں۔ زینبیون کے یہ جوان وطن عزیز پاکستان کی محبت میں لبریز ہیں، ان جوانوں کی پہلی ترجیح پاکستان اور اس کی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ یہ پاکستان کیلئے حقیقی دفاعی لائن ہیں، اگر داعش پاکستان پر حملہ آور ہوئی تو زینبیون کے یہی جوان فرنٹ لائن پر نظر آئیں گے، جو پاکستان کی حفاظت کیلئے جان نچھاور کرنے کیلئے تیار ہیں، مادر وطن کے تحفظ کیلئے ہر گھر سے زینبیون نکلیں گے۔
http://www.taghribnews.com/vdcbgfbs5rhb5gp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس