تاریخ شائع کریں2021 5 August گھنٹہ 18:05
خبر کا کوڈ : 514162

افغان فوج و طالبان میں جھڑپوں، تین سو سے زائد طالبان جنگجو ہلاک

افغانستان کی قومی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں اور افغان فوج و سیکورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں تین سو سے زائد طالبان ہلاک اور ایک سو پچیس زخمی ہو گئے۔
افغان فوج و طالبان میں جھڑپوں، تین سو سے زائد طالبان جنگجو ہلاک
افغانستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین سو سے زائد طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔

افغانستان کی قومی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں اور افغان فوج و سیکورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں تین سو سے زائد طالبان ہلاک اور ایک سو پچیس زخمی ہو گئے۔

افغان وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان جھڑپوں کے دوران بڑی مقدار میں طالبان کے ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کو تباہ بھی کر دیا گیا ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع کے مطابق طالبان کے ساتھ ہونے والی یہ جھڑپیں ننگرہار، لغمان، غزنی، پکتیکا، قندھار، زابل، ہرات، جوزجان، سمنگان، فاریاب، سرپل، نیمروز، قندوز، بغلان اور کاپیسا میں انجام پائی ہیں۔

درایں اثنا مغربی افغانستان میں واقع صوبہ ہرات کی خواتین نے کمانڈر محمد اسماعیل خان کے زیر کمان عوامی رضا کار فورس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس صوبے پر طالبان کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ ہرات کی ایک فعال خاتون سوسن کاظمی نے کہا ہے کہ شہر ہرات پر طالبان کے حملے اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچوں کی تباہی و بربادی کے باعث اس شہر کی خواتین، سیکورٹی اہلکاروں اور محمد اسماعیل خان کی زیر کمان عوامی استقامتی محاذ کے سپاہیوں کی حمایت و پشتپناہی کا اعلان کرتی ہیں۔

سوسن کاظمی نے کہا کہ ہرات کی خواتین اب تک سیکورٹی اہلکاروں اور عوامی استقامتی محاذ کے ایک ہزار سے زیادہ جوانوں کے لئے کھانے پینے کا سامان فراہم کر چکی ہیں اور آئندہ بھی تعاون کے لئے تیار ہیں۔

درایں اثنا مغربی افغانستان میں عوامی استقامتی محاذ کے ترجمان عبد الرزاق احمدی نے کہا ہے کہ اس سرزمین کے مردوں اور عورتوں کو طالبان کی کارکردگی سے نفرت ہے اور وہ ضرور شکست سے دوچار ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان کے اس طرح کے جارحانہ حملوں کے بعد لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور اس ملک کے شہری اس گروہ سے نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب افغان آوا پریس نے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ جنوب مغربی افغانستان کے صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکرگاہ کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائی جمعرات سے شروع کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ کمانڈوز نے لشکرگاہ میں طالبان کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد طالبان ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

ہلمند کا شمار افغانستان کے بدامنی کے شکار صوبوں میں ہوتا ہے اور اس صوبے کے صدر مقام لشکرگاہ پر طالبان نے سنگین حملے کئے ہیں۔ طالبان کا دعوی ہے کہ اس شہر کے بڑے حصے پر ان کا کنٹرول ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdciq5awrt1azz2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس