تاریخ شائع کریں2021 5 August گھنٹہ 15:39
خبر کا کوڈ : 514135

شہید عارف حسین الحسینی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے

علامہ سید عارف حسین الحسینی اس کے بعد ایران تشریف لے گئے اور قم میں رہائش اور حصول علم کے دوران وہ پہلوی حکومت کے خلاف علماء اور عوام کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے تھے، لہذا انہیں گرفتار کیا گیا۔
شہید عارف حسین الحسینی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے
اتحاد بین المسلمین کے روح رواں اور قائد ملت اسلامیہ پاکستان شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی آج 5 اگست کو تینتیسویں برسی ہے۔

شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی بن سید فضل حسین 25 نومبر 1946 ء کو پاکستان کے شمال مغربی شہر پاراچنار کے نواحی گاؤں پیواڑ کے ایک مذہبی، علمی اور سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔

1964 میں ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد علوم آل محمد (علیہم السلام) سے روشناس ہونے کیلئے مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں داخلہ لیا اور مختصر سے عرصے میں مقدمات (ادبیات عرب) مکمل کر لئے۔ آپ کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ فارسی، عربی اور اردو پر بھی عبور حاصل تھا ۔

علامہ سید عارف حسین الحسینی پاکستان کے معروف شیعہ عالم دین، تحریک جعفریہ پاکستان کے صدر اور شیعہ  مسلمانوں کے محبوب قائد تھے۔ آپ نجف اور قم کے حوزہ ہائے علمیہ میں مشہور فقہاء منجملہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے تھے۔

شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی 1967 میں نجف اشرف مشرف ہوئے اور نجف اشرف اور بعد ازاں قم  میں مختلف اساتذہ کے ہاں فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج طے کئے۔

علامہ سید عارف حسین الحسینی نجف اشرف میں آیت اللہ مدنی کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور ان کے توسط سے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور کارناموں سے واقف ہوئے۔ 1973ء میں انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں عراق کی بعثی حکومت نے انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور کچھ عرصہ بعد ملک بدر کر دیا۔

علامہ سید عارف حسین الحسینی اس کے بعد ایران تشریف لے گئے اور قم میں رہائش اور حصول علم کے دوران وہ پہلوی حکومت کے خلاف علماء اور عوام کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے تھے، لہذا انہیں گرفتار کیا گیا۔ انہیں ایک ضمانت نامے پر دستخط کرنے کیلئے کہا گیا کہ "وہ مظاہروں اور انقلابی قائدین کی تقاریر میں شرکت نہیں کریں گے اور انقلابی رہنماؤں سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے” لیکن انہوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کیا۔ چنانچہ جنوری 1979 میں انہیں ایران چھوڑ کر پاکستان واپس جانا پڑا۔

وطن واپسی کے بعد تقریبا 10 مہینوں تک پاراچنار میں تبلیغ دین میں مصروف رہے۔

شہید عارف حسین الحسینی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے اور مسلمانوں کے مابین اتحاد و وحدت کیلئے آپ نے کافی کام کیا اور اسی وجہ سے

علامہ عارف حسین الحسینی  کو 5 اگست 1988 کی صبح پشاور میں ان کے اپنے مدرسے میں نمازِ صبح کے بعد سامراجی ایجنٹوں  نے فائرنگ کر کے شہید کردیا۔

بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رح) نے شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت کے موقع پر پاکستان کے علماء اور قوم و ملت کے نام اپنے پیغام میں انہیں اپنا "فرزند عزیز” قرار دیا۔ امام خمینی (رح) نے فرمایا تھا کہ شہید عارف حسین الحسینی میرے فرزند ہیں اور شہادت کے موقع پر ان کے یہ تاریخی جملے تھے کہ میں اپنے فرزند سے محروم ہو چکا ہوں۔

شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت کے بعد ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں پیواڑ میں ہوئی۔

علاہ شہید عارف حسینی کے خون نے پاکسانی قومی میں ایک بیداری کی لہر دوڑا دی اور آج بھی کروڑوں دل انکی جانفشانیوں اور قربانیوں کو یاد کر کے راہ حق پر گامزن اور عالمی و علاقائی سامراج کے خلاف ایک آواز بنے ہوئے ہیں۔

سحر عالمی نیٹ ورک علامہ شہید عارف حسین الحسینی کی 33 ویں برسی کے موقع پر ان کے سبھی چاہنے والوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcip5awwt1azz2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس