تاریخ شائع کریں2021 31 July گھنٹہ 21:30
خبر کا کوڈ : 513563

عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا بل لازم العمل ہے

عراقی پارلیمنٹ کے الفتح الائنس کے رہنما عدی الخدران نے بھی کہا ہے کہ امریکی علاقے کی قوموں کو جنگ و خونریزی کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں اور اسی بنا پر دہشتگرد عناصر کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔
عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا بل لازم العمل ہے
عراق کے بعض ممبران پارلیمنٹ نے امریکہ کی جانب سے داعش دہشتگرد گروہ کی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا بل لازم العمل ہے ۔

بغداد الیوم کی رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ میں صادقون دھڑے کے نمائندے ثمر ذبیان نے ایک بیان میں کہا کہ عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لئے منظور ہونے والے بل کو ہرگز مشکوک نہیں بنایا جا سکتا۔

عراقی پارلیمنٹ کے الفتح الائنس کے رہنما عدی الخدران نے بھی کہا ہے کہ امریکی علاقے کی قوموں کو جنگ و خونریزی کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں اور اسی بنا پر دہشتگرد عناصر کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ کے اراکین کے بیانات ایسے عالم میں سامنے آ رہے ہیں کہ عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن میں ایک سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں جس کی بنیاد پر رواں سال کے آخر تک عراق میں امریکیوں کا فوجی مشن ختم ہو جائے گا لیکن عراقی فوجیوں کی ٹریننگ جیسے مختلف عناوین اور بہانوں سے عراق میں امریکی عناصر تعینات رہیں گے۔

عراقی استقامتی محاذ نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا اعلان زبانی ہونے کے بارے میں انتباہ دیا ہے۔ العالم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عراقی استقامتی محاذ نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر امریکہ کے فوجیوں کے عراق سے باہر نکلنے کا اعلان صرف زبانی ہوگا تو وہ لازمی موقف اختیار کریں گے۔

عراق کے استقامتی محاذ نے اعلان کیا ہے عراق کو قابضوں کے ہاتھوں سے آزاد کرانے ، اس ملک کی حاکمیت قائم کرنے ، اقتدار اعلی کو عملی جامہ پہنانے اور کسی بھی عنوان سے ملک کو بیرونی فوجیوں سے بے نیاز کرنے کا مطالبہ واضح ہے۔

عراقی استقامتی محاذ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک غاصب امریکی فوجی عراق سے حقیقی طور پر باہر نہیں نکل جاتے اس وقت تک وہ پوری طرح الرٹ رہیں گےعراقی استقامتی محاذ نے امریکہ اور عراق کے درمیان اسٹریٹیجک مذاکرات کے بیان کو مبہم قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ امریکی فوجیوں کی ذمہ داری جنگی سے مشاورتی میں تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عراق میں غاصب امریکی فوجیوں کی موجودگی جاری رکھنے کے لئے فریب اور دھوکے سے کام لیا جا رہا ہے۔

بغداد ایئرپورٹ کے قریب تین جنوری دوہزار بیس میں دہشتگرد امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ایران کی سپاہ قدس بریگیڈ کے کمانڈر، جنرل قاسم سلیمانی اور حشدالشعبی کے سربراہ جنرل ابو مہدی المہندس کو قتل کرنے کے مجرمانہ اقدام کے بعد عراقی پارلیمنٹ نے پانچ جنوری دوہزار بیس کو ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بل کو منظوری دی تھی ۔
http://www.taghribnews.com/vdcce1qp12bqsp8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس