تاریخ شائع کریں2021 30 July گھنٹہ 17:13
خبر کا کوڈ : 513412

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے گذشتہ دنوں بھارت کا پہلا سرکاری دورہ

ان ملاقاتوں میں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان، افغانستان، طالبان، چین اور بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال  سمیت کئی عالمی اور علاقائی امور پر اظہار خیال کیا۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے گذشتہ دنوں بھارت کا پہلا سرکاری دورہ
امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے گذشتہ دنوں بھارت کا پہلا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر برائے خارجہ امور ڈاکٹر جے ایس شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان، افغانستان، طالبان، چین اور بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال  سمیت کئی عالمی اور علاقائی امور پر اظہار خیال کیا۔

جمعرات کو اپنا دو روزہ دورہ مکمل کرنے والے بلنکن نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب ڈاکٹر ایس جے شنکر اور وزیر اعظم نریندر مودی سے علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے افغانستان میں پاکستان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ اسلام آباد پر امن افغانستان کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

بلنکن نے ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو میں بتایا: ’پاکستان کا (افغانستان میں) اہم کردار ہے اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ طالبان ملک پر طاقت کے ذریعے قابض نہ ہوں۔‘

 انہوں نے مزید کہا: ’اور اس (پاکستان) کا اثر و رسوخ ہے اور اس نے اپنا کردار ادا کرنا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس کو ادا کرے گا۔‘

افغانستان کی موجودہ صورت حال پر تبصرہ

اس سے قبل اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے ساتھ حیدر آباد ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس میں بلنکن کا افغانستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ امریکہ افغان سکیورٹی فورسز اور کابل حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔ 

ان کا کہنا تھا: ’یقینی طور پر ہم گذشتہ ہفتوں میں جو کچھ بھی زمین پر دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ طالبان افغانستان کے کئی صوبائی درالحکومتوں کو چیلنج کرتے ہوئے ضلعی مراکز کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ہم ان علاقوں میں طالبان کی جانب سے کیے گئے مظالم کی ان خبروں کو بھی دیکھ رہے ہیں جو کہ گہری تشویش کا باعث ہیں اور یقینی طور پر یہ پورے ملک کے لیے طالبان کے اچھے ارادے ظاہر نہیں کر رہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جیسا کہ میں نے نوٹ کیا ہم افغانستان میں سکیورٹی فورسز کو فراہم کی جانے والی مختلف اقسام کے تعاون کے ساتھ ساتھ کابل حکومت کی حمایت کے لیے بھی بہت زیادہ کام کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہم سفارت کاری کو بروئے کار لانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں تاکہ فریقین مل کر بامقصد طریقے سے تنازع کو پر امن طریقے سے حل کر سکیں۔ اور بالآخر ایک ایسا افغانستان جو اپنے عوام کے حقوق کا احترام نہیں کرتا ہے، ایک ایسا افغانستان جو اپنے ہی لوگوں پر مظالم کا ارتکاب کرتا ہے وہ ایک مسترد شدہ ریاست بن جائے گا۔‘

طالبان کے لیے ایک ہی راستہ تنازع کا پر امن حل ہے: بلنکن

بلنکن نے طالبان کے حوالے سے کہا کہ ’وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان اور افغانستان کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ممکنہ طور پر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے قائدین دنیا میں آزادانہ طور پر سفر کرنے کے قابل ہوں، ان کے خلاف پابندیاں ختم ہوں لیکن طاقت کے زور پر ملک پر قبضہ کرنا اور اپنے عوام کے حقوق کو پامال کرنا ان مقاصد کو حاصل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ ان کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تنازع کو پر امن طریقے سے حل کریں اور فغانستان کو ابھارنے کے لیے ایک ایسی حکومت کو یقینی بنائیں جو اس کے تمام لوگوں کا نمائندہ ہو۔‘

نہیں چاہتے افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ میدان جنگ میں ہو: جے شنکر

اس موقع پر بھارتی وزیر برائے خارجہ امور ایس جے شنکر نے کہا کہ ان کا ملک نہیں چاہتا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ میدان جنگ میں ہو۔

جے شنکر نے کہا: ’جب پچھلے 20 سالوں سے افغانستان میں ایک مضبوط فوجی موجودگی رکھنے والا ملک امریکہ انخلا کر رہا ہے تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔ اب مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ نتائج اچھے ہوں گے یا برے۔ جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ یہ ایک پالیسی اختیار کر لی گئی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اب سفارت کاری کے ذریعے ہی کچھ کیا جا سکتا ہے اور آج کی ہماری گفتگو اور افغانستان کے بہت سارے پڑوسیوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی اسی حل کے بارے میں بات ہوئی ہے۔‘

ان کے بقول: ’ہم نہیں سمجھتے کہ افغانستان میں نتائج کا فیصلہ میدان جنگ میں طاقت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ہمارے خیال میں مذاکرات کے ذریعے امن قائم اور تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس کا سیاسی تصفیہ ہونا چاہیے اور افغانستان کے بیشتر پڑوسی ممالک بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔‘

افغانستان میں چین کی دلچسپی ’مثبت چیز‘ ثابت ہو سکتی ہے: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ’ایک مثبت چیز‘ ثابت ہوسکتی ہے۔

بلنکن نے کہا کہ ’اگر وہ (بیجنگ) افغان تنازع کے پرامن حل اور وہاں حقیقی نمائندگی والی حکومت چاہتے ہیں تو امریکہ چین کے کردار کا خیرمقدم کرے گا۔‘

بھارت ان اقدامات کی پشت پناہی نہ کرے جس سے شہری آزادیاں سلب ہوتی ہیں: بلنکن

جے شنکر سے ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ نے بھارت میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق کوئی گفتگو نہیں کی تاہم اس سے ایک روز قبل امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ وہ حقوق انسانی کے گروہوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کے دوران ان اقدامات کی پشت پناہی نہ کریں جس سے شہری آزادیاں سلب ہوتی ہیں۔

بلنکن نے اپنے دورہ بھارت کے دوران سول سوسائٹی کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ پر بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا۔

بلنکن نے کہا: ’ہمارے دونوں جمہوری ممالک میں (حقوق کے حوالے سے) کام جاری ہیں۔ بعض اوقات یہ عمل تکلیف دہ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی صورت حال بدنما ہو سکتی ہے لیکن جمہوریت کی طاقت ہی یہی ہے کہ وہ اسے قبول کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’جمہوریت اور بین الاقوامی آزادیوں کے لیے بڑھتے ہوئے عالمی خطرات کے وقت ہم نے ایک جمہوری فقدان کے بارے میں بات کی ہے، یہ اتنا ضروری ہے کہ ہم بطور دنیا کی دو اہم جمہوریتیں، ان نظریات کی حمایت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی رہیں۔‘

بھارت کے لیے مزید ڈھائی کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

جے شنکر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلنکن نے کہا کہ وہ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ امریکی حکومت کرونا ویکسینیش مہم کو دوام بخشنے کے لیے بھارت کو اضافی ڈھائی کروڑ ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ امداد زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جان بچانے، ویکسین کی فراہمی بہتر بنانے، جھوٹی خبروں کو روکنے اور زیادہ سے زیادہ ہیلتھ ورکرز کی تربیب میں معاون ثابت ہو گی۔‘
 
http://www.taghribnews.com/vdcfymdt0w6dyja.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس