تاریخ شائع کریں2021 25 July گھنٹہ 22:59
خبر کا کوڈ : 512889

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید

فلسطینی گاؤں بیتا میں تشدد کے ایک روز بعد وزارت صحت نے بتایا کہ 17 سالہ محمد منیر التمیمی گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے جو ہسپتال میں شہید ہوگے۔
اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید
فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی آباد کاری کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارے میں احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

فلسطینی گاؤں بیتا میں تشدد کے ایک روز بعد وزارت صحت نے بتایا کہ 17 سالہ محمد منیر التمیمی گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے جو ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

فلسطینی ہلال احمر کا کہنا تھا کہ جھڑپوں کے دوران 320 فلسطینی زخمی ہوئے تھے جن میں سے 21 گولیوں، 38 ربر کی گولیاں لگنے اور متعدد آنسو گیس سے زخمی ہوئے۔

ایک فوٹو گرافر نے بتایا کہ بیتا گاؤں میں دوپہر کو سیکڑوں فلسطینی جمع ہوئے جو گزشتہ کئی ماہ سےگاؤں کے قریب ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں نے پتھراؤ کیا جس پر اسرائیلی سپاہیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے رد عمل دیا۔

اسرائیل حکام کے مطابق تشدد کے دوران ان کے دو فوجی بھی 'معمولی زخمی' ہوئے۔

یاد رہے کہ بیتا مئی کے مہینے سے بدامنی کا شکار ہےجب درجنوں اسرائیلی خاندان یہاں آئے اور پہاڑ کے قریب نابلس میں اسرائیلی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بستیوں کی تعمیرات شروع کردیں۔

علاقے میں کئی ہفتوں تک جھڑپیں اور کشیدگی جاری رہنے کے بعد اسرائیلی حکومت کے قوم پرست وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے آباد کاروں سے معاہدہ کیا جس کے بعد انہیں وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

آباد کار اپنے تعمیر کردہ اس وقت تک گھر چھوڑ کر گئے ہیں جب اسرائیلی وزارت دفاع اس بات کا تعین نہیں کر سکتی کہ آیا مذکورہ زمین ریاست کا حصہ تصور کی جائے یا نہیں۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے فیصلے تک فوج یہاں بدستور موجود رہے گی۔

بیتا کے مئیر نے معاہدہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ایک اسرائیلی بھی ہماری سرزمین میں موجود رہے گا اس وقت تک جھڑپیں اور احتجاج ہوتا رہے گا۔

عالمی برادری کی جانب سے مغربی کنارے میں تمام یہودی آباد کاری کو غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcc4iqpo2bqs48.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس