تاریخ شائع کریں2021 25 July گھنٹہ 22:45
خبر کا کوڈ : 512886

افغانستان پر بھارت کی نظر

بھارت گزشتہ ستر برسوں میں اس وقت بہتر پوزیشن میں ہے کہ اگر وہ اپنی افواج افغانستان میں اتار دے تو وہ  وہ امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی، امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے اور ڈرونز حاصل کر سکے۔ اس موقع پر بھارت لے دے کی بہترین پوزیشن میں ہوگا کیونکہ اگر وہ افغانستان میں جنگ کے لیے داخل ہوتا ہے۔
افغانستان پر بھارت کی نظر
بشکریہ:شفقنا اردو

افغان آرمی چیف جنرل ولی محمد اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا 27 جولائی کو ایک ہی دن دہلی کا دورہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ موقع کی مناسبت سے طے گیا ہے کیونکہ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد بالاخر امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال کر اس خطے سے رخصت ہورہا ہے ۔ اس مشترکہ دورے کے پیچھے یقینا ایک خاص فیکٹر ہے اور وہ فیکٹر چین ہے۔ چین اس وقت مشرقی لداخ میں اپنا فوجی اڈا قائم کرنے جا رہا ہے جس سے وہ با آسانی بھارت پر نظر رکھ سکے گا۔ بھارت اور چین 2017 میں اس وقت سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں جب دونوں ممالک نے ڈوکلام میں 70 دن ایک دوسرے کے خلاف فوجیں آمنے سامنے کھڑی رکھیں۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی اور 2020 میں بھارت وادی گیلوان میں چین کے ساتھ جنگ میں اپنے 20 فوجی ہاتھ سے دھو بیٹھا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت اور چین مسلسل ایک سال سے جنگ کی تیاری میں ہیں کیونکہ دونوں کی جانب سے بات چیت کے بہت سارے دور بے نتیجہ ختم ہوگئے ہیں۔ بھارت نے چین کے مقابلے میں اپنا دفاع مضبوط کرنے کے لیے سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھی ” بیکا معاہدہ” کیا کیونکہ چین بھارتی ریاستوں لداخ، سکم، اترکھنڈ، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ گردانتا ہے۔ بلاشبہ اس صورتحال کو بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے آرٹیکل 370 میں ترمیم کر کے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کرکے بھارت کا حصہ بنانے کے اقدام نے مہمیز دی۔ جس کو چین اور پاکستان اور بھارت ایک سال کے عرصے میں تیسری مرتبہ اقوام متحدہ میں لے گئے۔

بدقسمتی سے 2019 کے وسط تک کوئی بھی یہ بات نہیں سوچ سکتا تھا کہ افغان طالبان اس طرح اشرف غنی حکومت کے خلاف پیش قدمی کریں گے ، اگرچہ افغانستان نے بھارت کے حوالے سے ایک بہترین پالیسی تشکیل دی تھی اور ہمیشہ سے حکومت مخالف قوتوں کے خلاف اشرف غنی کے ساتھ کھڑا رہا تھا تاہم افغان طالبان کی پیش قدمی کی وجہ سے اسے کندھار، ہیرات اور جلال آباد میں اپنے کونصلیٹ بند کرنا پڑے ۔ امریکہ اور نیٹو اب افغانستان سے رخصت ہورہے ہیں اس لیے اشرف غنی اس وقت بھارت کی طرف فوجی مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔ اگرچہ بھارت نے ابھی تک اشرف غنی کے اس مطالبہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تاہم نریندرا مودی کی ہندتوا پالیسیز کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کی پیشن گوئی مشکل نہیں ہے کہ بھارت ایک ہزار سال کے بعد اپنی فوجیں افغانستان میں اتار دے۔ کیونکہ ہندتوا کا حتمی ایجنڈا اکھنڈ بھارت ہی ہے ۔ بھارت کی جانب سے غنی کی افواج کے ساتھ کھڑے ہونے سے افغان فوج طالبان کے مقابلے میں برابری کی سطح پر آجائے گی۔

بھارت اور امریکہ کے لیے لداخ میں چین کا رستہ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ چین کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھا جائے اور بلنکن کے دورے کو پاکستان کی جانب سے امریکہ کو اڈے دینے کے انکار کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس لیے اس وقت غنی حکومت اور امریکہ یہ چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان میں اپنے فوجی دستے اتارے تاکہ پاکستان کی تزویراتی گہرائی کے تصور کو سخت ٹھیس پہنچائی جاسکتے ۔ امریکہ کا منصوبہ ہے کہ وہ بھارتی ذرائع کو استعمال کر کے پاکستان، چین اور افغان طالبان کی مثلث کو زک پہنچائے۔ اور یہ بڑی حد تک ممکن اس لیے ہے کہ چین سی پیک کی وجہ سے اس کھیل میں شریک ہوگیا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان کو کو بھی اس میں شامل کرے تاکہ اسے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل ہوسکے ۔ بھارت اور امریکہ نے سی پیک کے حوالے سے ہمیشہ ہی خدشات کا اظہار کیا ہے۔

اس لیے اس دورے پر انٹونی بلنکن، وزیر اعظم نریندرا مودی، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور افغان آرمی چیف کے مابین ملاقاتوں کا ایک سلسلہ رکھا گیا ہے ۔ بھارت اور امریکہ اس ملاقات میں چین اور پاکستان کا رستہ روکنے کی منصوبہ بندی پر غور کریں گے جو کہ بھارت کا بھی مطمع نظر ہے کیونکہ بھارت اس وقت خطے میں چین اور پاکستان کا رستہ روکنے کی بھرپور خواہش رکھتا ہے جبکہ امریکہ بھی پاکستان کو انکار کی سزا دینا چاہتا ہے۔ بھارت یقینا یہ چاہتا ہے کہ وہ امریکی پرپوزل سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

بھارت گزشتہ ستر برسوں میں اس وقت بہتر پوزیشن میں ہے کہ اگر وہ اپنی افواج افغانستان میں اتار دے تو وہ  وہ امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی، امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے اور ڈرونز حاصل کر سکے۔ اس موقع پر بھارت لے دے کی بہترین پوزیشن میں ہوگا کیونکہ اگر وہ افغانستان میں جنگ کے لیے داخل ہوتا ہے تو وہ یقینا امریکہ سے یہ مطالبہ کرے گا کہ چین کے خلاف وہ اس کے ساتھ کھڑا ہوجائے مگر یہاں پر شاید امریکہ بھارت کی خواہش پوری نہ کر سکے کیونکہ وہ چین کے خلاف بھارت کو محض ایک پراکسی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ ایک مختصر عرصے میں ایک اور کھائی میں چھلانگ لگانا پسند نہیں کرے گا۔ امریکہ چین کے ساتھ دیگر محاذوں جیسا کہ تائیوں اور جنوبی بحیرہ چین پر مقابلہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس موقع پر بھارت امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کرے گا کہ وہ روسی ایس -400 پر سے اپنے اعتراضات ختم کردے۔

بھارت اس وقت بھرپور فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے کیونکہ وہ نہ صرف غنی حکومت میں اچھا اثرو رسوخ رکھتا ہے اور پھر ترکی کی جانب سے افغان طالبان کو قابض گروہ قرار دینے سے افغان طالبان کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے جو کہ امریکہ، غنی اور بھارت کی مثلث کے بہت حد تک مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم بھارت اس موقع پر اپنے دیرینہ حلیف روس کی ممکنہ طور پر مخالفت مول لے گا جو کہ غنی کے بعد کے افغانستان میں بھارت کا کوئی کردار نہیں دیکھ رہا اور نہ ہی موجودہ صورتحال میں بھارت کو خوش آمدید کہنے پہ تیار ہے۔ تاہم اس کے باوجود روسی وزیر خارجہ سرگئی لارو نے بھارت اور ایران کو افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کے لیے دعوت دینے کا عندیہ دیا ہے حالانکہ کابل میں روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلو نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ وہ افغان طالبان پر کوئی اثرو رسوخ نہیں رکھتے۔ تاہم گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان میں بھارت کی مداخلت کو  دیکھا جائے تو امریکہ کو اپنی پشت پناہی پر دیکھ کر بھارت کسی صورت افغانستان کو اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دے گا۔
http://www.taghribnews.com/vdcjo8eimuqevoz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس