تاریخ شائع کریں2021 21 June گھنٹہ 15:00
خبر کا کوڈ : 508685

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی حالت زندگی پر مختصر نظر

اسلامی جمہوریہ ایران میں اب تک عہدہ صدارت کے لیے 13 مرتبہ انتخابات ہوچکے ہیں، 18 جون کو ہونے والے تیرہویں صدارتی انتخابات میں آٹھویں صدر کے طور پر میدان میں آنے والی شخصیت ملت ایران کے لئے بالکل آشنا اور جانی پہچانی ہے۔
آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی حالت زندگی پر مختصر نظر
اسلامی جمہوریہ ایران کے نومتخب صدر کون ہیں؟ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی شخصیت پر ایک سرسری نگاہ۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں اب تک عہدہ صدارت کے لیے 13 مرتبہ انتخابات ہوچکے ہیں، 18 جون کو ہونے والے تیرہویں صدارتی انتخابات میں آٹھویں صدر کے طور پر میدان میں آنے والی شخصیت ملت ایران کے لئے بالکل آشنا اور جانی پہچانی ہے۔

61 سالہ سید ابراہیم رئيسی عہدہ صدارت پر براجمان ہونے سے پہلے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کے طور پر ملک کے طول و عرض میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی مشہد مقدس میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور ابھی 5 سال کے ہی تھے کہ باپ کے سايہ شفقت سے محروم ہوگئے۔

دوران تعلیم امرار معاش میں بھی مشغول رہے اور 12 سال کی عمر میں مشہد مقدس کے دینی تعلیمی مرکز سے وابستہ ہوگئے۔

3 برس حوزہ علمیہ مشہد مقدس میں گزارنے کے بعد قم کے دینی مرکز کا رخ کیا اور وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ انقلابی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔

11 فروری 1979 کو اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا تو آیت اللہ سید محمد حسین بہشتی کے حکم سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے اسلامی عدالتی نظام کے تحت فعالیت کرنے لگے اور اس دوران ملک کے مختلف شہروں میں اٹارنی اور ڈپٹی اٹارنی کے عہدوں پر فائض ہوئے۔

قانون پر گرفت اور تسلط کی بناپر 1988 میں بانی انقلاب اسلامی کے براہ راست حکم پر خصوصی عدالتی مشن سونپا گیا۔

5 برس تک دارالحکومت تہران کے اٹارنی رہے۔

 10 برس تک وفاقی محتسب کے عہدے پر براجمان رہے۔

 10 برس تک عدلیہ کے نائب سربراہ اور اٹارنی جنرل کے عہدے پر تعینات رہے۔

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے درجہ اجتہاد تک اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور 2007  میں صوبہ خراسان جنوبی سے مجلس خبرگان کے رکن بنے 2019 میں اکثریت آراء سے مجلس خبرگان کے نائب سربراہ کے منصب پر فائز ہوئے۔

شہید مطہری یونیورسٹی سے فقہ اور قانون میں ڈاکٹریٹ کیا اور اس دوران فقہ اور قانون کے موضوعات پر کئی رسالے اور کتابیں تالیف کیں، جبکہ تہران کی مختلف یونیورسٹیزمیں قانون کی تدریس کے علاوہ  فقہ اور اصول فقہ میں درس خارج کی کرسی بھی آپ کے پاس رہی۔

آستانہ قدس رضوی اور اس سے وابستہ اداروں اور مراکز کی ذمہ داری سنبھالتے ہی اس ادارے کے تحت غربت کے خاتمے کے لئے انقلابی بنیادوں پر کام شروع کیا،  اس ادارے کی فعالیت بڑھی تو لوگوں کے اعتماد  میں اضافہ ہوا چنانچہ آستانہ قدس رضوی کے لئے بطورتحفہ دی جانی والی نذورات اور موقوفات لوگوں کی شراکت اور حصہ داری بھی دوگنی ہوگئی۔ م

مالز جیسے معاشی اور تجارتی منصوبوں سے نکلنے کے بعد آستانہ قدس رضوی کو مناسب اور شایان شان مقام حاصل ہوگيا  اور یہ سب اس ادارے کے سربراہ اور متولی کی حیثیت سے آیت اللہ رئیسی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

آيت اللہ سید ابراہیم رئیسی اس سے قبل کے صدارتی انتخابات میں بھی امیدوار تھے، بارہویں صدارتی انتخابات میں آيت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹ لئے اور اس طرح ملک کے ایک نامور سیاستداں کے طور پر سامنے آئے۔

تین برس قبل آيت اللہ سید ابراہیم رئیسی کو رہبرانقلاب اسلامی نے عدلیہ کا سربراہ منصوب کیا جو حالیہ صدارتی انتخابات سے قبل ان کا آخری منصب تھا جس کے دوران انہوں نے عدلیہ کے شعبے میں نمایاں انقلابی تبدیلیاں کیں جس پر رہبر انقلاب اسلامی نے ان کے اقدامات کی ستائش کی۔

اور اب شمسی کلینڈر کے مطابق ایران پندرہویں صدی کے آغاز میں قدم رکھ چکا ہے اور ایران کی زمام امور ایک ایسی شخصیت کے ہاتھ میں ہے کہ جسے عوام کی واضح اکثریت نے انتخاب کیا ہے کہ جس کا ماضی بے داغ اور اجرائی امور ميں تحسین آمیز اقدامات کا غماز ہے۔

حالات ایک بڑی اور سنجیدہ تبدیلی کے لئے موافق ہيں جو اسلامی انقلاب کے اعلی اہداف کے حصول میں سرعت کا باعث بن سکتے ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdcbwwbssrhbg0p.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس