تاریخ شائع کریں2021 16 June گھنٹہ 19:51
خبر کا کوڈ : 508116

امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے مابین ملاقات

جنیوا میں ملاقات ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات بھی کم درجے پر ہیں اور دونوں ممالک اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے مابین ملاقات
امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے مابین آج جنیوا میں پہلی ملاقات جاری ہے۔

جنیوا میں ملاقات ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات بھی کم درجے پر ہیں اور دونوں ممالک اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ ملاقات میں اقتصادی پابندیوں، سائبر حملوں اور انتخابات میں مداخلت کے موضوعات پر بات چیت ہو گی۔

ملاقات میں کسی بڑی پیشرفت کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔ البتہ کچھ چھوٹے معاملات پر پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس ملاقات کے لیے انتظامات بہت دھیان سے کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے روسی صدر لیک جنیوا کے کنارے پر واقع گرینڈ ولا میں پہنچیں گے جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد ہو ئی۔

اس ملاقات سے پہلےصدر جو بائیڈن برطانیہ کے ساحلی شہر کورنوال میں جی سیون ممالک کی کانفرنس میں شرکت کرنے کے علاوہ نیٹو ممالک کی کانفرنس میں بھی شریک ہوئے۔ نیٹو ممالک کے اجلاس میں امریکی صدر نے مغربی اتحادیوں کو مکمل امریکی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

دونوں صدور کے مابین ملاقات کے لیے مقام کا انتخاب دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ 1985 میں جب سرد جنگ کے عروج پر تھی تب امریکی صدر رونلڈ ریگن اور سوویت یونین کے رہنما میخائل گورباچوف کی جنیوا میں ملاقات ہوئی تھی۔

امریکہ اور روس کے سفارتی تعلقات کم ترین سطح پر ہیں اور دونوں ممالک میں کسی کا بھی سفیر دوسرے ملک میں موجود نہیں ہے۔

روس نے حال ہی امریکہ کو ’غیر دوستانہ‘ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

البتہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ تعلقات میں ’استحکام` اور `غیریقینی ‘ کی فضا کو ختم کرنے کے لیے اس ملاقات کی اہمیت ہے۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے روس کے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔

البتہ روسی صدر کے خارجہ امور کے مشیر یوری اشاکوف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’پرامیدی‘ کی زیادہ گنجائش نہیں۔

ایک سینئر امریکی اہلکار سے جب پوچھا گیا کہ صدر بائیڈن اور روسی صدر مل کر کھانا کھائیں گے تو امریکی اہلکار نے بتایا کہ ایسا نہیں ہو گا۔

صدر جو بائیڈن ایک بار پہلے روسی صدر سے بطور نائب امریکی صدر ملاقات کر چکے ہیں۔

جنیوا میں امریکہ اور روس کے جھنڈے لہرائے جا چکے ہیں۔ مسلح پولیس سپیڈ بوٹس میں جنیوا لیک میں اپنی پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں۔ لیک کو تمام سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

یہ ملاقات ’دوستانہ‘ ماحول میں نہیں ہو گی۔ امریکی صدر نے کچھ عرصہ پہلے روسی صدر کو ’بے رحم قاتل‘ قرار دیا تھا۔

اسی طرح روس کے ٹی وی سٹیشن نےآج اپنی ایک رپورٹ میں صدر جو بائیڈن کی جہاز کی سیڑھیوں سے بحفاظت نیچے اترنے کی تعریف کی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے پاس بات چیت کے لیے اسلحہ کی تخفیف، سائبر سیکورٹی اور نئے میدان جنگ سمیت کئی موضوعات ہیں۔

امریکہ کے پاس انسانی حقوق کے حوالے سے شکایات کی لمبی فہرست ہے جسے صدر پوتن رد کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

صرف قیدیوں کی تبادلے کے حوالے سے کسی پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ امریکہ اپنے فوجی پال ویلن کی رہائی چاہتا ہے جو روس میں جاسوسی کے الزامات پر سزا پا چکے ہیں، جبکہ روس بھی ماضی میں قیدیوں کے تبادلے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین ’سفارتی جنگ‘ کو روکنے کے لیے شاید کوئی معاہدہ طے پا جائے اور دونوں ملک اپنے سفیروں کو واپس اپنے عہدوں پر بھیج دیں۔

اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کوئی نیا موڑ نہیں آئے گا اور دونوں ملکوں کی عداوت کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن یہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے لیے موقع ہے کہ وہ آمنےسامنے بیٹھ کر کھلے انداز میں اپنے خدشات پر بات چیت کر سکیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچا لیں۔
http://www.taghribnews.com/vdca6anmi49nw61.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس