تاریخ شائع کریں2021 16 June گھنٹہ 16:06
خبر کا کوڈ : 508094

انتخابی قانون میں ترامیم اور الیکشن کمیشن کے اعتراضات

قومی اسمبلی میں الیکشنز (ترمیمی) بل 2020 10 جون کو منظور ہوا تھا، جس کے ذریعے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ملک کے انتخابی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی یکطرفہ کوشش کی۔
انتخابی قانون میں ترامیم اور  الیکشن کمیشن کے اعتراضات
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات سے متعلق قانون الیکشنز ایکٹ 2017 میں حال ہی میں قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے بعض آئینی ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ملکی آئین سے متصادم قرار دے دیا ہے۔

کمیشن کی جانب سے منگل کی رات اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا گیا: ’الیکشن (ترمیمی) بل 2020 میں بعض ترامیم کو الیکشن کمیشن آئین سے متصادم سمجھتا ہے، جن میں سرفہرست انتخابی فہرستوں کی تیاری اور ان پر نظرثانی کے اختیارات ہیں۔‘

قومی اسمبلی میں الیکشنز (ترمیمی) بل 2020 10 جون کو منظور ہوا تھا، جس کے ذریعے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے ملک کے انتخابی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی یکطرفہ کوشش کی۔

وفاقی حکومت نے یہ بل گذشتہ سال اکتوبر میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا جبکہ اس سال آٹھ جون کو اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی نے حزب اختلاف کے احتجاج کے دوران بل منظور کیا تھا، جسے اپوزیشن نے قانون سازی بلڈوز کرنا قرار دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں منگل کو ہونے والے اجلاس میں گذشتہ ہفتے الیکشنز ایکٹ (ترمیمی) بل 2020 کے ذریعے الیکشنز ایکٹ 2017 میں کی گئی ترامیم پر غور اور بحث کی گئی۔ اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دوسرے سینئیر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کو مطلع کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے اس ترامیم سے متعلق اپنا موقف پہلے ہی وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے پاس جمع کروا دیا تھا۔ 

اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق: ’الیکشن کمیشن نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ مذکورہ ترامیم پر اس کے موقف کو متعلقہ قائمہ کمیٹیز میں زیر بحث نہیں لایا گیا۔‘

الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور احمد دلشاد نے ترمیمی بل کی منظوری سے متعلق رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، جسے متاثر کرنا کسی صورت بھی مفید نہیں ہوگا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے مشیر انہیں غلط مشورے دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے آئین میں اس قسم کی ’بیوقوفانہ ترامیم‘ کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوھدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف حکومت نے بار بار انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے لیے حزب اختلاف کو بات چیت کے لیے مدعو کیا تھا لیکن انہوں نے تعاون سے انکار کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کی گئی انتخابی ترامیم میں تمام سٹیک ہولڈرز کی رائے شامل ہے۔

درج ذیل سطور میں ہم مذکورہ بل کے ذریعے پاکستان میں انتخابات سے متعلق قانون میں کی جانے والی بعض اہم ترامیم اور ان پر الیکشن کمیشن کے اعتراضات یا رائے کا ذکر کریں گے۔

انتخابی فہرستوں کی تیاری

الیکشن ایکٹ 2017 میں متعدد ترامیم کے ذریعے پاکستان میں انتخابی فہرستوں کی تیاری کے کام میں الیکشن کمیشن کا کردار ختم کر دیا گیا ہے۔

ترامیم کے ذریعے انتخابی فہرستوں کی تیاری اور اندراج کی ذمہ داری شہریوں کی شناخت کے اعداد و شمار مرتب کرنے والے ادارے نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی) کے حوالے کی گئی ہے۔ 

ای سی پی کا اعتراض: الیکشن کمیشن کے بیان میں کہا گیا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کے اختیارات آئین کے آرٹیکل 219 کے تحت الیکشن کمیشن کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 222 کے تحت ان اختیارات کو کم یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے متعلقہ دفعات کو حذف کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا عمل کمیشن کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ترامیم میں انتخابی حلقہ بندیاں آبادی کے بجائے ووٹرز کی بنیاد پر کی جائیں گی، جو آئین کے آرٹیکل 51 کی صریحا خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس آرٹیکل میں قومی اسمبلی کی نشستوں کو آبادی کی بنیاد پر مختص کیا جاتا ہے۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ترمیم کے باوجود نادرا کی تیار یا رجسٹر کردہ انتخابی فہرستوں کی توثیق کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہی رہے گا۔  

سینیٹ انتخابات

اس ترمیم کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 122 میں ترمیم کر کے سینیٹ کے انتخابات کو خفیہ کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کا ذکر رکھا گیا ہے، جو الیکشن کمیشن کے مطابق صدارتی ریفرنس کے جواب میں سپریم کورٹ کی رائے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات سے قبل صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کو ایک ریفرنس بھیجا تھا جس میں انہوں نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے سے متعلق اعلی عدلیہ کی رائے مانگی تھی۔

تاہم سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ سے ہی کروانے کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت کی حوصلہ شکنی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت کی تھی۔

سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق

ترامیم کی دفعہ 94 میں الیکشن کمیشن کو نادرا یا کسی دوسرے ادارے کی مدد سے دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو وہاں رہتے ہوئے پاکستان میں عام انتخابات میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ 2018 میں سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے 2018 کے ضمنی انتخابات میں کیے گئے پائلٹ پراجیکٹ کی رپورٹ پارلیمنٹ کو بھیج دی گئی تھی، جس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

الیکشن کمیشن کے بیان میںa کہا گیا کہ وفاقی وزرات انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نادرا کے تیار کردہ آئی ووٹنگ سسٹم کا تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کروایا، جس کے مطابق سسٹم میں مختلف خامیاں پائی جاتی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے، اور اسی بنیاد پر آڈٹ رپورٹ میں مذکورہ آئی ووٹنگ سسٹم کو استعمال نہ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین

انتخابی ترامیم کے ذریعے الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 103 الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کے لیے الیکٹرانگ ووٹنگ مشین (ای وی ایم) خریدنے کی اجازت دیتا ہے۔  

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سات جون 2021 کو وفاقی وزرا کے ایک وفد کی الیکشن کمیشن کے ساتھ ملاقات میں بتایا گیا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی تیار کردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا نمونہ جولائی 2021 میں ای سی پی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

’اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن دو بین الاقوامی کمپنیوں کی تیار کی گئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈیمو لے چکا ہے۔‘

دیگر ترامیم

نئی ترامیم کے ذریعے انتخابی قوانین میں دوسری کئی ترامیم بھی کی گئی ہیں، جن میں الیکشن کمیشن کی مالیاتی خودمختاری میں اضافہ، انتخابی فہرستوں پر اعتراض کی صورت میں ہائی کورٹ کی بجائے سپریم کورٹ میں اپیل کا حق، کسی انتخابی حلقے میں باہر سے پولنگ سٹاف کی تعیناتی، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں میں نامزدگی کی فیس میں اضافہ، منتخب ہونے والے رکن کا 60 روز میں حلف اٹھانا ضروری قرار دیا جانا، پولنگ آفیسر یا سٹاف کی تعیناتی پر 15 روز میں اعتراض اٹھانے کا حق، ہر امیدوار کو ایک پولنگ سٹیشن میں پانچ پولنگ ایجنٹس لگانے کی اجازت ہونا، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کے لیے اس کے 10 ہزار اراکین ہونا، اور الیکشن کمیشن کے پاس ہر رجسٹرڈ سیاسی جماعت کے لیے سالانہ کنونشن کا انعقاد ضروری قرار دینا شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے واضح بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے لیے نہ صرف حزب اختلاف بلکہ الکشن کمیشن کو بھی ان ترامم کی بابت اعتماد میں اب بھی لینے کی ضرورت ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcf1cdtjw6dxxa.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس