تاریخ شائع کریں2021 15 June گھنٹہ 18:31
خبر کا کوڈ : 507962

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کی بد کلامی

حکومتی اراکین کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر قومی اسمبلی نے متعدد مرتبہ اعلان کیا کہ ایوان کی کارروائی کو جاری رہنے دیا جائے تاہم ناکامی پر انہوں نے ایوان کی کارروائی کو 30 منٹ تک ملتوی کردی۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کی بد کلامی
قومی اسمبلی میں رواں مالی سال کے پیش کردہ بجٹ پر بحث سے متعلق اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے درمیان بد کلامی اور کشیدگی دیکھی گئی جس کے بعد اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تقریر کا آغاز کیا تو وفاقی وزرا سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے ایوان میں شور شرابا شروع کیا اور ڈیسک پر بجٹ کتاب بجاتے رہے۔

اس موقع پر اسد قیصر نے ایوان کو چلانے کی کوشش کی اور حکومت و اپوزیشن اراکین سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی نشستوں پر بیٹھنے اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر سننے کا کہا۔

حکومتی اراکین کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر قومی اسمبلی نے متعدد مرتبہ اعلان کیا کہ ایوان کی کارروائی کو جاری رہنے دیا جائے تاہم ناکامی پر انہوں نے ایوان کی کارروائی کو 30 منٹ تک ملتوی کردی۔

اجلاس کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں جھڑپ بھی ہوئی۔

دوران اجلاس اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب پی ٹی آئی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے مسلم لیگ (ن) کے رکن شیخ روحیل اصغر کو بجٹ کی کتاب دے ماری اور ان کے لیے نا مناسب زبان استعمال کرتے رہے۔

اس کے بعد ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

بعد ازاں 30 منٹ التوا کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر تقریر کا آغاز کیا اور اس موقع پر انہیں اپوزیشن اراکین نے گھیر رکھا تھا، دوسری جانب اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کا شور شرابا جاری رہا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے باعث اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے معطل کیا تھا لیکن وہ دوبارہ شروع نہ ہوسکا۔

واضھ رہے کہ گزشتہ روز اپنی تقریر میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت نے اپنا چوتھا بجٹ پیش کردیا ہے، بجٹ باعث ریلیف ہونا چاہیے لیکن یہ بجٹ باعث تکلیف ہے۔

شہباز شریف کی تقریر شروع ہوتے ہی حکومتی اراکین نے احتجاج اور شور شرابا کیا تھا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا تھا کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو پھر بجٹ کے تمام اعداد وشمار جعلی ہیں، دن رات ریاست مدینہ کا ذکر کرنے والے اور مثال دینے والے حکمران کاش غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والے کروڑوں پاکستانیوں کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتے، کاش وہ یتیم اور بیواؤں کی دعائیں لیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
 
http://www.taghribnews.com/vdciqyawrt1au32.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس