تاریخ شائع کریں2021 13 June گھنٹہ 20:51
خبر کا کوڈ : 507704

انتخابی ترامیم کو ایک بار پھر آئین اور الیکشن کمیشن پر حملہ،اپوزیشن

حزب اختلاف کی جماعتوں کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ حکومت نے بل کی تیاری میں انہیں مکمل طور پر نظرانداز کیے رکھا اور وہ حکومت سے اس بارے میں بات کرنا نہیں چاہتیں ۔
انتخابی ترامیم کو ایک بار پھر آئین اور الیکشن کمیشن پر حملہ،اپوزیشن
پاکستان کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نون نے حکومت کی مجوزہ انتخابی ترامیم کو ایک بار پھر آئین اور الیکشن کمیشن پر حملہ قرار دیا ہے۔

لاہور میں پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی انتخابی ترامیم آئین اور الیکشن کمیشن پر سنگین حملہ ہیں۔

اس سے پہلے حزب اختلاف کی جماعتوں کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ حکومت نے بل کی تیاری میں انہیں مکمل طور پر نظرانداز کیے رکھا اور وہ حکومت سے اس بارے میں بات کرنا نہیں چاہتیں ۔

مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب کے بیان میں مجوزہ ترامیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے اور تصورات کے منافی قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مذکورہ ترامیم کے ذریعے حکومت وفاقی پارلیمانی نظام جمہوریت ختم کرکے صدارتی نظام لانے کی کوشش کر رہی رہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان کو ’بنانا ریپبلک‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان نے ایک بل کے ذریعے انتخابی قوانین مجریہ دو ہزار سترہ میں پچاس کے قریب تبدیلیاں لانے کا اعلان کرتے ہوئے، دعوی کیا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے ملک میں جمہوری عمل کی شفافیت میں اضافہ ہو گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے مخالفین کو انتخابی اصلاحات پر بات چیت کی دعوت بھی دی تھی جسے حزب اختلاف نے مسترد کر دیا تھا۔
 
http://www.taghribnews.com/vdccxmqp02bqxm8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس