تاریخ شائع کریں2021 12 June گھنٹہ 20:33
خبر کا کوڈ : 507558

مقبوضہ فلسطین میں آزادی صحافت کے قانون کی پاسداری کی جائے

اسرائیل میں فلسطینیوں کی زندگی اور غزہ حملوں سے متعلق واقعات کی حقیقت کودنیا کے سامنے لایا جا ئےساتھ ہی شفافیت کو صحافت کی بنیادقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی اصل حقیقت اور سچائی کو دنیا سےچھپا یاجارہا ہےجسے سامنے لانا چاہئے۔
مقبوضہ فلسطین میں آزادی صحافت کے قانون کی پاسداری کی جائے
عالمی صحافتی مکتوب میں مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل میں مکمل آزادی کے ساتھ صحافیوں کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کو ممکن بنایا جائے تاکہ اسرائیل میں فلسطینیوں کی زندگی اور غزہ حملوں سے متعلق واقعات کی حقیقت دنیا کےسامنےآئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 250 سے زائد بین الاقوامی صحافتی اداروں کی جانب سے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے نام ایک مکتوب  پر دستخط کیے گئے  جس میں مطالبہ کیا گیا  ہے کہ مقبوضہ  فلسطینی علاقوں میں آزادی صحافت کے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے انہیں اسرائیل میں مکمل آزادی کے ساتھ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی  میں رکاوٹوں کے خاتمے کو ممکن بنایا جائے تاکہ اسرائیل میں فلسطینیوں کی زندگی اور غزہ حملوں سے متعلق واقعات کی حقیقت کودنیا کے سامنے لایا جا ئےساتھ ہی شفافیت کو صحافت کی بنیادقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی اصل حقیقت اور سچائی کو دنیا سےچھپا یاجارہا ہےجسے سامنے لانا چاہئے۔

صحافتی مہم کے اس مکتوب میں مزید کہا گیا ہےکہ "رواں ماہ اپریل میں ہیومن رائٹس واچ نے 213 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں اسرائیلی حکام کے” نسل پرستی اور ظلم و ستم کے انسانیت کے خلاف جرائم "کے مرتکب ہونے کا دستاویز کیا تھا جس پر  اسرائیلی انسانی حقوق کے سرکردہ گروپ بتسلیم نے اس خطے کی خصوصیت کی حیثیت سے نسلی بالادستی کی حکومت کا مظاہرہ کیاگیا ، جبکہ مشرقی بیت المقدس میں شیخ جرح  کے مقام پر فلسطینیوں کو جبری طور پر نقل مکانی کے لیے مجبور کیا جارہا ہے جوکہ جنگی جرائم میں شامل ہوتا ہے اس حوالے سےمقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فرقہ واریت ، ظلم و ستم ، نسلی بالا دستی کئی سالوں سے فلسطینیوں کی زندگیوں کو مشکل بنائے ہوئے ہیں اور اس میں تیزی سے اضافہ ہورہے ہیں تاہم صحافت کی نظر سے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم حقیقت کی عکاسی کریں۔

مکتوب پر واشنگٹن پوسٹ ؛دی وال اسٹریٹ جرنل؛ ڈیلی بیسٹ ؛ ٹیکساس آبزرور؛ وائس نیوز؛ دی انٹر سیپٹ؛ جیوز کرنٹ؛ لاس اینجلس ٹائمز؛ کونڈو نیسٹ سمیت دیگر نے دستخط کیےہیں
http://www.taghribnews.com/vdcjiaeiouqeyiz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس