تاریخ شائع کریں2021 17 May گھنٹہ 22:09
خبر کا کوڈ : 504368

فلسطینی عوام کیخلاف ظلم اور دہشتگردی پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے ہیں

ہشتگردی کیخلاف صہیونی ریاست کی پالیسی بشمول نہتے فلسطینی شہریوں کیخلاف منظم یافتہ اور وسیع پیمانے پر حملے جو انسانہ دوستانہ حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کیخلاف ہیں، بین الاقوامی امن اور سلامتی کو شدید خطرہ کا سامنا کرتے ہیں۔
فلسطینی عوام کیخلاف ظلم اور دہشتگردی پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے ہیں
ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فلسطینی شہریوں کیخلاف ناجائز صہیونی ریاست کے حالیہ حملوں کی شدت سے مذمت کی۔

ان خیالات کا اظہار "کاظم غریب آبادی" نے اقوام متحدہ میں جرائم سے نمٹنے اور عالمی عدالت کے کمیشن کے 30 ویں اجلاس کے دوران کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی، بین الاقوامی امن اور سلامتی اور معاشروں کی توسیع اور خوشحالی کا سب سے بڑا خطرہ ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دہشتگردی کی لعنت سے متاثرہ علاقائی ممالک کی مدد میں اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب ہمیں سرکاری عہدیداروں، سائنسدانوں بالخصوص شہید جنرل سلیمانی  اور اعلی ایرانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر "فخری زادہ" کے قتل پر منظم یافتہ دہشتگردانہ حملات دیکھنے میں آئے ہیں تو دہشتگردی کی تمام اقسام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیلئے عالمی برادری کے پختہ عزم کی انتہائی ضرورت ہے۔

غریب آبادی نے کہا کہ ہم نہتے فلسطینی عوام کیخلاف بڑے پیمانے پر ظلم اور دہشتگردانہ اقدامات پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے ہیں؛ آج ہم پھر سے انتہائی افسوس سے غزہ پٹی اور فلسطین میں نہتے شہریوں بالخصوص معصوم بچوں اور خواتین کیخلاف حملوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف صہیونی ریاست کی پالیسی بشمول نہتے فلسطینی شہریوں کیخلاف منظم یافتہ اور وسیع پیمانے پر حملے جو انسانہ دوستانہ حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کیخلاف ہیں، بین الاقوامی امن اور سلامتی کو شدید خطرہ کا سامنا کرتے ہیں۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق، تمام ممبر ممالک کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کے لئے پرعزم ہونا ہوگا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی یا برداشت کرنے سے باز رہنا ہوگا؛ انتہائی سفاک ریاست کے ذریعہ کیے جانے والے اس طرح کے بڑے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں خاموشی کا مطلب دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور اسے برداشت کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صہیونی حملوں کی انتہائی سختی سے مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انہوں نے تمام ممبر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق صہیونی ریاست کی مجرمانہ اور دہشت گردی کارروائیوں کی غیر مشروط مذمت کریں اور اس ریاست کو اس کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcfvjdtcw6dxma.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس