تاریخ شائع کریں2021 16 May گھنٹہ 22:20
خبر کا کوڈ : 504213

فلسطینیوں کا قیام اسلامی تہذیب و تمدن کےزندہ ہونے کی نوید سناتا ہے

آیۃ اللہ مدرسی نے کہا کہ صہیونی حکومت کے قبضے کے خلاف فلسطینی عوام کے قیام نے واضح کردیا کہ امت اسلامیہ اب بھی خدا کے عہد و پیماں کے ساتھ وفادار ہےاور ہر روز انقلابی روح کادنیا کے گوشہ و کنار میں ظاہر ہونا، اسلامی تہذیب و تمدن کےزندہ ہونے کی نوید سناتا ہے۔
فلسطینیوں کا قیام اسلامی تہذیب و تمدن کےزندہ ہونے کی نوید سناتا ہے
آیۃ اللہ مدرسی نے کہا کہ صہیونی حکومت کے قبضے کے خلاف فلسطینی عوام کے قیام نے واضح کردیا کہ امت اسلامیہ اب بھی خدا کے عہد و پیماں کے ساتھ وفادار ہےاور ہر روز انقلابی روح کادنیا کے گوشہ و کنار میں ظاہر ہونا، اسلامی تہذیب و تمدن کےزندہ ہونے کی نوید سناتا ہے۔

عراقی ممتاز عالم دین آیۃ اللہ سید محمد تقی مدرسی نے فلسطینی عوام کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت کے ناجائزقبضے کے خلاف فلسطینی عوام کے قیام نے واضح کردیا کہ امت اسلامیہ اب بھی خدا کے عہد و پیماں کے ساتھ وفادار ہےاور ہر روز انقلابی روح کادنیا کے گوشہ و کنار میں ظاہر ہونا، اسلامی تہذیب و تمدن کے زندہ ہونےکی نوید سناتا ہے۔

عراقی ممتاز عالم دین نے کہا کہ بشریت نے الہی نمائندوں سے دوری کے بعد بہت سی چیلنجز کا سامنا کیااور آج مادی تہذیب و تمدن پر کوئی اعتماد نہیں کرتا۔کیونکہ کورونا کے بحران کے انتظام، عالمی سطح پر مختلف تبدیلیوں کی چیلنج، مادیاتی سوچ اور ظالمانہ سماجی طبقات بندیوں سے ظاہر ہوا کہ بشریت کو ایک اعلی سطحی الہی تہذیب کی ضرورت ہے جو کہ اسلامی تہذیب میں متجلی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ تہذیب صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہو،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک الہی تہذیب ہے کہ جس میں آسمانی اقدار موجود ہیں اور تمام انسانوں کی ضرورت ہے۔

آیۃ اللہ مدرسی نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی تہذیب ایمان اور تقویٰ کی مضبوط جڑیں ہے،جو دنیا کی اصلاح اور عالم کو زندہ کرتی ہے،کہاکہ بلاشبہ،انسانیت کے لئے یہ اصلاح،تعمیر اور خدمات صرف مادیاتی نظریات کے لحاظ سے نہیں ہیں بلکہ ایک مذہبی نقطہ نظر بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دینی تہذیب و تمدن،انسانی مادی اور معنوی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔لہذا اسلام زندگی کے مادی پہلوؤں کو معنوی عبادات سے منسلک کرتا ہے۔اسلام نماز، روزہ اور حج کو خداوند متعال کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ اور یہ عبادات انسانی مفادات کو فراہم بھی کرتی ہیں۔مثال کے طور پر، عید الفطر، جو کہ ایک معنوی اور روحانی عیدہے،لیکن اس دن زکات فطرہ ادا کیا جاتا ہے تاکہ غریب و مستحق اور محتاج افراد بھی فائدہ حاصل کر سکے۔

شیعہ دانشور نے سیاست کی دنیا میں دینی نظریات کی عدم فراموشی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاست کو دین اور مذہب کی تابع ہونا چاہئے نہ کہ برعکس۔

آخر میں، انہوں نے عید سعید فطر کی تمام مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے خداوند عالم سے، تمام مسلمانوں کیلئے ترقی یافتہ،امن اور صلح سے بھر پور زندگی کی دعا کی۔
 
http://www.taghribnews.com/vdceze8nxjh87wi.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس