تاریخ شائع کریں2021 16 May گھنٹہ 20:24
خبر کا کوڈ : 504197

اسلامی مزاحمت کی ٹحریک و صہیونی ریاست کا صدر

لندن سے شائع ہونے والے عربی زبان کے اخبار رأي اليوم (Rai al-Youm) نے فلسطین کے مغربی کنارے میں موجودہ انتفاضہ کو سابقہ تحریکوں سے مختلف قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا نیتن یاہو بیک وقت تین محاذوں پر لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
اسلامی مزاحمت کی ٹحریک و صہیونی ریاست کا صدر
لندن سے شائع ہونے والے عربی زبان کے اخبار رأي اليوم (Rai al-Youm) نے فلسطین کے مغربی کنارے میں موجودہ انتفاضہ کو سابقہ تحریکوں سے مختلف قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا نیتن یاہو بیک وقت تین محاذوں پر لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

رای الیوم کے تجزیئے کے اہم نکات:

مغربی پٹی میں نئی انتفاضہ ہاتھی کی مانند ہے جو آہستگی سے چل نکلتی ہے مگر اگر چل نکلے تو راستے میں آنے والے ناجائز یہودی نوآبادیوں کے کسی بھی باشندے اور اسرائیلی فوجی کچل کر نیست و نابود کرے گی۔

مغربی پٹی کے نوجوان مسجد الاقصی اور شیخ جراح نامی محلے کے دفاع کے لئے سرگرم ہوچکے ہیں اور غزہ میں تحریک مقاومت سے مکمل یکجہتی رکھتے اور یہ سلسلہ اب مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا خواہ جتنا بھی طویل المدت کیوں نہ ہو۔

انتفاضہ نابلس، الخلیل، جنین اور مغربی کنارے کے تمام شہروں اور دیہی علاقوں میں پلٹ آئی ہے، غاصب یہودی ریاست کے فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں، اور تمام سڑکیں اور چوراہے تیزی کے ساتھ آگ میں تبدیل ہوئے ہیں۔

مغربی پٹی کے مختلف علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد متعدد فلسطینیوں کی شہادت ایک نہایت خطرناک تبدیلی کا آغاز ہے جو یہودی ریاست کے شدید خوف و ہراس کا باعث بنی ہوئی ہے، وہ اس تبدیلی کے امکان سے لرزہ بر اندام ہیں۔

اس خوف کا سبب یہ ہے کہ مغربی پٹی گذشتہ 25 برسوں سے بالکل خاموش اور پرسکون رہی ہے؛ یہاں یہودی نوآبادیاں فلسطینی محلوں میں گھلی ملی ہوئی ہیں اور یہودی ریاست ان نوآبادیوں کو اپنے لئے تزویراتی گہرائی سمجھتی ہے؛ نئی انتفاضہ اگر دوسری مسلحانہ انتفاضہ کی طرح شدت اختیار کرے اور فلسطینی نوجوان ہتھیار سنبھالیں تو یہ علاقہ تزویراتی گہرائی کے محافظوں کا قبرستان بنے گا۔

فلسطینی نوجوان 1948 کی سرزمینوں کے تین حصوں، مغربی پٹی اور غزہ میں مسجد الاقصی اور محلۂ شیخ جراح کے مکینوں کے دفاع کے لئے متحدہ ہوچکے ہیں اور انہیں فلسطینی مقاومت کی فعال جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

یہ صورت حال ایسے حالات میں معرض وجود میں آئی ہے کہ صہیونی ریاست کا جبر عروج کو پہنچا ہے اور امارات اور سعودیہ سمیت کچھ عرب ریاستیں ہتھیار یہودی غاصبوں کے ساتھ ساز باز کرچکی ہیں، جس سے یہ غلط فہمی وجود میں آئی تھی کہ "فلسطینی قوم ہتھیار ڈال چکی ہے"؛ لیکن نئی انتفاضہ نے اسلامی مزاحمت کی جماعتوں کی میزائل انتفاضہ کے ساتھ مل کر اس خیال کو باطل کردیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ مغربی پٹی کے باشندوں نے پہلی اور دوسری انتفاضہ میں یہودی ریاستوں اور یہودی نوآبادیوں کے باشندوں کو خوفزدہ کردیا تھا۔ تیسری انتفاضہ کے علمبردار نہایت بہادر اور پرعزم ہیں؛ تیسری انتفاضہ نماز جمعہ کے بعد شروع ہوئی ہے اور پہلے مرحلے میں ہی درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں، چنانچہ آنے والے دن نتین یاہو اور نوابادیوں کے باشندوں کے لئے حیران کن اور خوفناک ہونگے۔

تزویراتی صبر کا دور اختتام پذیر ہوچکا ہے اور یہ انتفاضہ اس سرزمین میں تعمیر شدہ تمام ناجائز نوآبادیوں کے انہدام اور خودمختار فلسطینی مملکت کے قیام تک جاری رہے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdcf1jdtew6dxya.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس